حدیث نمبر: 18011
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمُقْرِي، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ الْمِصْرِيُّ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ التُّجِيبِيِّ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللهِ السَّبَئِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ عَامَ حُنَيْنٍ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَسْقِيَنَّ مَاءَهُ وَلَدَ غَيْرِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ دَابَّةٍ مِنَ الْمَغَانِمِ فَيَرْكَبَهَا حَتَّى إِذَا نَقَصَهَا رَدَّهَا فِي الْمَغَانِمِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَغَانِمِ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِي الْمَغَانِمِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حنین کے دن فرمایا: ”جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنا پانی غیر کے بچے کو نہ پلائے، اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ غنیمت کے مال سے کوئی جانور نہ لے، اگر لے اور اس کو بوڑھا کر دے، تب بھی وہ اس کو غنیمت کے مال میں واپس کرے گا، اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ غنیمت سے کچھ لباس نہ پہنے، اگر لے کر اس کو بوسیدہ بھی کر دے، تو وہ اس کو غنیمت کے مال میں واپس کرے گا۔“
حدیث نمبر: 18012
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِي، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ⦗١٠٦⦘ وَخَالِدٍ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْقَيْنِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى، فَقُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي الْغَنِيمَةِ؟ قَالَ: " لِلَّهِ خُمُسُهَا وَأَرْبَعَةُ أَخْمَاسٍ لِلْجَيْشِ ". قُلْتُ: فَمَا أَحَدٌ أَوْلَى بِهِ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالَ: " لَا، وَلَا السَّهْمُ تَسْتَخْرِجُهُ مِنْ جَنْبِكَ لَيْسَ أَنْتَ أَحَقَّ بِهِ مِنْ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ بلقین کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے پاس آیا، اس وقت آپ ﷺ وادیِ قریٰ میں تھے، اس نے غنیمت کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے، باقی چار حصے لشکر کے لیے ہیں۔“ اس نے کہا: کیا کسی کو کسی پر فوقیت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، حتیٰ کہ وہ تیر جس کو تم اپنے پہلو سے نکالو، اس میں بھی تم اپنے بھائی سے زیادہ حق نہیں رکھتے۔“