السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرخصة في استعماله في حال الضرورة باب: بوقتِ ضرورت اسے استعمال کرنے کی اجازت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ وَهُوَ صَرِيعٌ، وَعَلَيْهِ بَيْضَةٌ، وَمَعَهُ سَيْفٌ جَيِّدٌ، وَمَعِي سَيْفٌ رَدِيٌّ، فَجَعَلْتُ أَنْقُفُ رَأْسَهُ بِسَيْفِي وَأَذْكُرُ نَقْفًا كَانَ يَنْقُفُ رَأْسِي بِمَكَّةَ، حَتَّى ضَعُفَتْ يَدُهُ فَأَخَذْتُ سَيْفَهُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: عَلَى مَنْ كَانَتِ الدَّبَرَةُ؟ أَكَانَتْ لَنَا، أَوْ عَلَيْنَا؟ أَلَسْتَ رُوَيْعِيَنَا بِمَكَّةَ؟ قَالَ: فَقَتَلْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: قَتَلْتُ أَبَا جَهْلٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ قَتَلْتَهُ؟ ". فَاسْتَحْلَفَنِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَامَ مَعِي إِلَيْهِمْ فَدَعَا عَلَيْهِمْ ".سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ابوجہل کے پاس پہنچا تو وہ نیم مردہ حالت میں تھا۔ اس کے سر پر خود تھا اور اس کے پاس عمدہ تلوار تھی جبکہ میری تلوار ہلکی تھی۔ میں نے اپنی تلوار سے اس کے سر پر مارا، اس وقت مجھے مکہ میں اس کا مجھے مارنا یاد آیا۔ میں نے اسے اتنا مارا کہ اس کا ہاتھ کمزور ہو گیا، پھر میں نے اس کی تلوار پکڑ لی۔ اس نے سر اٹھایا اور کہا: شکست کس کو ہوئی؟ کیا ہمیں یا ان کو؟ اور مجھ سے کہا: کیا تو مکہ میں ہمارا چرواہا نہیں تھا؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس کو قتل کر دیا۔ پھر نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے اس کو قتل کر دیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”«وَاللّٰهِ الَّذِي لَا إِلٰهَ غَيْرُهُ» ”اللہ کی قسم! وہ اللہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے“، کیا تو نے اس کو قتل کیا ہے؟“ نبی ﷺ نے تین دفعہ مجھ سے قسم لی، پھر وہ میرے ساتھ گئے، پھر ان کے لیے بددعا فرمائی۔