السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرخصة في استعماله في حال الضرورة باب: بوقتِ ضرورت اسے استعمال کرنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18015
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ بَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَقِيتُ يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ حِمَارُ الْيَمَامَةِ، رَجُلًا جَسِيمًا بِيَدِهِ سَيْفٌ أَبْيَضُ، فَضَرَبْتُ رِجْلَيْهِ فَكَأَنَّمَا أَخْطَأَتْهُ فَانْقَعَرَ فَوَقَعَ عَلَى قَفَاهُ، فَأَخَذْتُ سَيْفَهُ وَأَغْمَدْتُ سَيْفِي، فَمَا ضَرَبْتُ بِهِ إِلَّا ضَرْبَةً حَتَّى انْقَطَعَ فَأَلْقَيْتُهُ وَأَخَذْتُ سَيْفِي ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسیلمہ سے لڑائی کے دن میں ایک طاقتور آدمی سے ملا جس کو یمامہ کا گدھا کہا جاتا تھا، اس کے ہاتھ میں عمدہ تلوار تھی، میں نے اس کی ٹانگوں پر مارا گویا کہ مجھ سے خطا ہوگئی، اس کی ٹانگیں اکھڑ گئیں اور وہ گدی کے بل گر گیا، میں نے اس کی تلوار کو پکڑا اور اپنی تلوار کو میان میں رکھا، میں نے اس کو ایک ہی وار سے قتل کر دیا، پھر میں نے اس کی تلوار کو پھینک دیا اور میں نے اپنی تلوار پکڑ لی۔