کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: مشرکین سے جنگ میں مدد لینے کے متعلق کیا احکامات وارد ہوئے ہیں۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ بَدْرٍ، فَلَمَّا كَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ أَدْرَكَهُ رَجُلٌ قَدْ كَانَ يُذْكَرُ مِنْهُ جُرْأَةً وَنَجْدَةً، فَفَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَوْهُ، فَلَمَّا أَدْرَكَهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، جِئْتُ لِأَتِّبِعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُؤْمِنُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ؟ ". قَالَ: لَا. قَالَ: " فَارْجِعْ؛ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ ". قَالَ: ثُمَّ مَضَى، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّجَرَةُ أَدْرَكَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، قَالَ: " فَارْجِعْ؛ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ ". قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ فَأَدْرَكَهُ بِالْبَيْدَاءِ، فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ: " تُؤْمِنُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ؟ ". قَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَانْطَلِقْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ. وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " لَعَلَّهُ رَدَّهُ رَجَاءَ إِسْلَامِهِ، وَذَلِكَ وَاسِعٌ لِلْإِمَامِ، وَقَدْ غَزَا بِيَهُودِ بَنِي قَيْنُقَاعَ بَعْدَ بَدْرٍ، وَشَهِدَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ حُنَيْنًا بَعْدَ الْفَتْحِ، وَصَفْوَانُ مُشْرِكٌ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَمَّا شُهُودُ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ مَعَهُ حُنَيْنًا وَصَفْوَانُ مُشْرِكٌ، فَإِنَّهُ مَعْرُوفٌ بَيْنَ أَهْلِ الْمَغَازِي، وَقَدْ مَضَى بِإِسْنَادِهِ، وَأَمَّا غَزْوُهُ بِيَهُودِ قَيْنُقَاعَ فَإِنِّي لَمْ أَجِدْهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ وَهُوَ ⦗٦٤⦘ ضَعِيفٌ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " اسْتَعَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِ قَيْنُقَاعَ فَرَضَخَ لَهُمْ، وَلَمْ يُسْهِمْ لَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ بدر کی طرف نکلے تو حرہ الوبرہ کے مقام پر ایک آدمی ملا، وہ جرأت، بہادری اور دلیری میں مشہور تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھی اس کو دیکھ کر خوش ہوئے۔ اس نے آپ کے پاس آ کر کہا: میں آپ کے ساتھ ہونا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”واپس جا، میں مشرک سے مدد نہیں لوں گا۔“ پھر آپ ﷺ آگے چلے، جب شجرہ کے مقام پر پہنچے تو وہی آدمی پھر آ ملا اور پہلی مرتبہ کی طرح کہا۔ نبی ﷺ نے بھی اس سے پہلی مرتبہ کی طرح فرمایا: ”واپس جا، میں مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: وہ لوٹ گیا، پھر بیداء کے مقام پر آپ ﷺ سے آ ملا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے پہلی مرتبہ کی طرح پوچھا: ”کیا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہے؟“ اس نے ہاں میں جواب دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”چلو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس کو واپس بھیجا گیا شاید اس کے اسلام لانے کی امید کی وجہ سے تھا اور اس میں قائد کے لیے وسعت ہے۔
بدر کے بعد آپ ﷺ نے بنو قینقاع کے یہودیوں کو ساتھ لے کر جنگ کی ہے اور صفوان بن امیہ آپ ﷺ کے ساتھ حنین کی جنگ میں شریک تھا اور یہ فتح مکہ کے بعد ہوئی ہے اور اس وقت صفوان بن امیہ مشرک تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مغازی والوں کے ہاں صفوان بن امیہ کا شرک کی حالت میں جنگ میں شریک ہونا تو مشہور ہے، یہ پہلے گزر گیا ہے اور اس کا غزوہ بنو قینقاع میں شریک ہونا یہ میں نے حسن بن عمارہ کی حدیث کے سوا کہیں اور نہیں پایا اور وہ (حسن بن عمارہ) ضعیف ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو قینقاع کے یہودیوں سے مدد لی اور ان کو کچھ مال دیا، لیکن ان کا حصہ مقرر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17877
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»
وَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَمْرٍو الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا خَلَفَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ إِذَا كَتِيبَةٌ، قَالَ: " مَنْ هَؤُلَاءِ؟ ". قَالُوا: بَنُو قَيْنُقَاعَ وَهُمْ رَهْطُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ. قَالَ: " وَأَسْلَمُوا؟ ". قَالُوا: لَا. قَالَ: " بَلْ هُمْ عَلَى دِينِهِمْ ". قَالَ: " قُلْ لَهُمْ فَلْيَرْجِعُوا؛ فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ ". وَهَذَا الْإِسْنَادُ أَصَحُّ.
حافظ ثناء اللہ
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ کے لیے نکلے، جب ثنیۃ الوداع سے آگے گئے تو ایک لشکر دیکھا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ لوگوں نے کہا: یہ بنو قینقاع کے لوگ ہیں اور وہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا قبیلہ ہے، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا وہ اسلام لے آئے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ اپنے دین پر ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان سے کہو واپس جائیں، ہم مشرکوں سے مدد نہیں لیتے۔“
یہ سند زیادہ صحیح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17878
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ، فَأَتَيْتُهُ أَنَا وَرَجُلٌ قَبْلَ أَنْ نُسْلِمَ، فَقُلْنَا: إِنَّا نَسْتَحْيِي أَنْ يَشْهَدَ قَوْمُنَا مَشْهَدًا فَلَا نَشْهَدُهُ. قَالَ: " أَسْلَمْتُمَا؟ ". قُلْنَا: لَا. قَالَ: " فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ". فَأَسْلَمْنَا وَشَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَتَلْتُ رَجُلًا، وَضَرَبَنِي الرَّجُلُ ضَرْبَةً، فَتَزَوَّجْتُ ابْنَتَهُ، فَكَانَتْ تَقُولُ: لَا عَدِمْتُ رَجُلًا وَشَّحَكَ هَذَا الْوِشَاحَ. فَقُلْتُ: لَا عَدِمْتِ رَجُلًا أَعْجَلَ أَبَاكِ إِلَى النَّارِ ". جَدُّهُ خُبَيْبُ بْنُ يَسَافٍ، وَيُقَالُ: إِسَافٌ، لَهُ صُحْبَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
خبیب بن عبدالرحمن اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا خبیب بن یساف رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی غزوے کے لیے نکلے۔ میں اور ایک اور آدمی آپ ﷺ کے پاس آئے، ابھی ہم نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، ہم نے عرض کیا: ہمیں شرم آتی ہے کہ ہماری قوم لڑائی میں جائے اور ہم نہ جائیں، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم اسلام قبول کر چکے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم مشرکوں کے خلاف مشرکوں سے مدد نہیں لیں گے۔“ پھر ہم نے اسلام قبول کیا اور آپ ﷺ کے ساتھ لڑائی میں گئے۔ میں نے ایک آدمی کو مارا اور ایک آدمی نے مجھے ضرب لگائی اور میں نے اس کی بیٹی سے شادی کی۔ وہ کہتی تھی: تو اس آدمی سے کبھی محروم نہ ہو جس نے تجھے یہ (زخم کا) ہار پہنایا، میں اسے کہتا: تو اس آدمی سے کبھی محروم نہ ہو جس نے تیرے باپ کو آگ کی طرف جلدی بھیج دیا۔ خبیب بن عبدالرحمن کے دادا کا نام خبیب بن یساف اور اساف بھی کہا جاتا ہے، رضی اللہ عنہ، ان کو صحبتِ رسول ﷺ حاصل ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17879
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " غَزَا بِقَوْمٍ مِنَ الْيَهُودِ فَرَضَخَ لَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
شیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہود کے کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر لڑائی کی اور ان کو مال بھی دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17880
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ رجاله كلهم ثقات الا ان الشيباني عن سعد بن مالك مرسل»