حدیث نمبر: 17881
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُمْ مِنَ الْكُفَّارِ} [التوبة: 123]..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُمْ مِنَ الْكُفَّارِ﴾ ’ان کافروں سے لڑو جو تمہارے قریب ہیں۔‘ [سورة التوبة: 123]...“
حدیث نمبر: 17881
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَهَيَّأَ لِلْحَرْبِ، فَقَامَ فِيمَا أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ جِهَادِ عَدُوِّهِ وَقِتَالِ مَنْ أَمَرَهُ بِهِ مِمَّنْ يَلِيهِ مِنْ مُشْرِكِي الْعَرَبِ ". ⦗٦٥⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: " فَإِنِ اخْتَلَفَ حَالُ الْعَدُوِّ فَكَانَ بَعْضُهُمْ أَنْكَى مِنْ بَعْضٍ، أَوْ أَخْوَفَ مِنْ بَعْضٍ، فَلْيَبْدَأ الْإِمَامُ بِالْعَدُوِّ الْأَخْوَفِ أَوِ الْأَنْكَى، وَإِنْ كَانَتْ دَارُهُ أَبْعَدَ إِنْ شَاءَ اللهُ، وَتَكُونُ هَذِهِ بِمَنْزِلَةِ ضَرُورَةٍ ". قَالَ: " وَقَدْ بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ أَنَّهُ يَجْمَعُ لَهُ، فَأَغَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَقُرْبَهُ عَدُوٌّ أَقْرَبُ مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لڑائی کا ارادہ کیا۔ آپ ﷺ نے جہاد ان دشمنوں سے شروع کیا جن سے آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے پہلے قریبی مشرکین سے لڑنے کا حکم دیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر دشمن کی حالت مختلف ہو یعنی بعض بعض سے زیادہ ضرر کا باعث ہوں اور زیادہ خوف کا باعث ہوں تو سپہ سالار لڑائی اس دشمن سے پہلے کرے گا جس سے خدشہ زیادہ ہو، اگرچہ وہ گھر کے لحاظ سے دور ہو اور یہ ضرورت کے وقت ہوگا۔
فرمایا: جب نبی ﷺ کو خبر ملی کہ حارث بن ابی ضرار لشکر جمع کر رہا ہے تو آپ ﷺ نے اس پر رات کو حملہ کر دیا تھا اور آپ ﷺ کے ارد گرد دشمن تھے جو حارث بن ابی ضرار سے قریب تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر دشمن کی حالت مختلف ہو یعنی بعض بعض سے زیادہ ضرر کا باعث ہوں اور زیادہ خوف کا باعث ہوں تو سپہ سالار لڑائی اس دشمن سے پہلے کرے گا جس سے خدشہ زیادہ ہو، اگرچہ وہ گھر کے لحاظ سے دور ہو اور یہ ضرورت کے وقت ہوگا۔
فرمایا: جب نبی ﷺ کو خبر ملی کہ حارث بن ابی ضرار لشکر جمع کر رہا ہے تو آپ ﷺ نے اس پر رات کو حملہ کر دیا تھا اور آپ ﷺ کے ارد گرد دشمن تھے جو حارث بن ابی ضرار سے قریب تھے۔
حدیث نمبر: 17882
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ أَنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ يَجْمَعُونَ لَهُ، وَقَائِدُهُمُ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ضِرَارٍ أَبُو جُوَيْرِيَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلَ بِالْمُرَيْسِيعِ مَاءٌ مِنْ مِيَاهِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَعَدُّوا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَاحَفَ النَّاسُ فَاقْتَتَلُوا، فَهَزَمَ اللهُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَقُتِلَ مَنْ قُتِلَ مِنْهُمْ، وَنَفَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْنَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ، وأَقَامَ عَلَيْهِ مِنْ نَاحِيَةِ قُدَيْدٍ إِلَى السَّاحِلِ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: غَزَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَعْبَانَ سَنَةَ سِتٍّ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کو خبر ملی کہ بنو مصطلق والے لشکر تیار کر رہے ہیں اور ان کی قیادت ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے والد حارث بن ابی ضرار کر رہے ہیں تو آپ ﷺ نکلے۔ جب آپ ﷺ مریسیع نامی کنویں پر پہنچے، یہ بنو مصطلق کے کنوؤں میں سے ایک تھا، انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ لڑائی کی تیاری کی اور لوگ ایک دوسرے کے قریب ہونا شروع ہوئے۔ پھر لڑائی ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے بنو مصطلق کو شکست دی۔ ان میں سے کچھ قتل ہوئے اور ان کے بچے، مال اور عورتیں رسول اللہ ﷺ نے زائد حاصل کیں اور قدید کے ساحل کی طرف سے ان پر حملہ کیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ چھ ہجری کو ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 17883
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الدُّعَاءِ قَبْلَ الْقِتَالِ، قَالَ: " فَكَتَبَ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ - أَحْسَبُهُ قَالَ: جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ. حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَبَلَغَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْيَانَ بْنِ نُبَيْحٍ يَجْمَعُ لَهُ، فَأَرْسَلَ ابْنَ أُنَيْسٍ فَقَتَلَهُ وَقُرْبَهُ عَدُوٌّ أَقْرَبُ مِنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عون کہتے ہیں: میں نے نافع کو خط لکھ کر پوچھا کہ قتال (لڑائی) سے قبل دعا (دعوت) کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے لکھا: یہ ابتدائے اسلام میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے بنو مصطلق پر شب خون مارا (رات کو حملہ کیا) اور وہ بھی شب خون مارنے والے تھے جبکہ ان کے جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا، تو لڑائی کے اہل لوگوں کو قتل کر دیا گیا اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا۔ اس دن سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کو بھی زخم آیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب یہ خبر آئی کہ خالد بن سفیان بن نبیح لشکر تیار کر رہا ہے تو اس طرف ابن انیس رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا۔ انہوں نے اس کو قتل کر دیا جبکہ اس کے قریب بھی دشمن موجود تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب یہ خبر آئی کہ خالد بن سفیان بن نبیح لشکر تیار کر رہا ہے تو اس طرف ابن انیس رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا۔ انہوں نے اس کو قتل کر دیا جبکہ اس کے قریب بھی دشمن موجود تھے۔
حدیث نمبر: 17884
أَخْبَرْنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنِ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَالِدِ بْنِ سُفْيَانَ الْهُذَلِيِّ وَكَانَ نَحْوَ عُرَنَةَ وَعَرَفَاتٍ، فَقَالَ: " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ ". قَالَ: فَرَأَيْتُهُ وَحَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَقُلْتُ: إِنِّي لَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَا أَنْ أُؤَخِّرَ الصَّلَاةَ، فَانْطَلَقْتُ أَمْشِي وَأَنَا أُصَلِّي أُومِي إِيمَاءً نَحْوَهُ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ قَالَ لِي: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، بَلَغَنِي ⦗٦٦⦘ أَنَّكَ تَجْمَعُ لِهَذَا الرَّجُلِ، فَجِئْتُكَ فِي ذَاكَ. قَالَ: إِنِّي لَفِي ذَاكَ. فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي عَلَوْتُهُ بِسَيْفِي حَتَّى بَرَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے خالد بن سفیان کی طرف بھیجا، وہ عرنہ اور عرفات کی طرف تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اسے قتل کرو۔“ یہ کہتے ہیں: میں نے اس کو دیکھا تو اس وقت عصر کی نماز کا وقت آگیا، میں نے سوچا کہ میرے اور اس کے درمیان معاملے میں نماز کے مؤخر ہونے کا خدشہ ہے، تو میں نماز کے لیے نکلا اور میں نے (نماز کے لیے) اشارہ کیا، جب میں اس کے قریب ہو گیا تو اس نے مجھے کہا: تو کون ہے؟ میں نے کہا: عرب ہوں، مجھے خبر ملی ہے کہ تو اس شخص کے خلاف لشکر جمع کر رہا ہے تو میں بھی اسی سلسلے میں تیرے پاس آیا ہوں، اس نے کہا: میں یہ کام کر رہا ہوں، تو میں کچھ دیر اس کے ساتھ چلا جب میں نے اس پر موقع پایا تو اپنی تلوار سے اس پر حملہ کر دیا حتیٰ کہ وہ مر گیا۔