السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في الاستعانة بالمشركين باب: مشرکین سے جنگ میں مدد لینے کے متعلق کیا احکامات وارد ہوئے ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ، فَأَتَيْتُهُ أَنَا وَرَجُلٌ قَبْلَ أَنْ نُسْلِمَ، فَقُلْنَا: إِنَّا نَسْتَحْيِي أَنْ يَشْهَدَ قَوْمُنَا مَشْهَدًا فَلَا نَشْهَدُهُ. قَالَ: " أَسْلَمْتُمَا؟ ". قُلْنَا: لَا. قَالَ: " فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ". فَأَسْلَمْنَا وَشَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَتَلْتُ رَجُلًا، وَضَرَبَنِي الرَّجُلُ ضَرْبَةً، فَتَزَوَّجْتُ ابْنَتَهُ، فَكَانَتْ تَقُولُ: لَا عَدِمْتُ رَجُلًا وَشَّحَكَ هَذَا الْوِشَاحَ. فَقُلْتُ: لَا عَدِمْتِ رَجُلًا أَعْجَلَ أَبَاكِ إِلَى النَّارِ ". جَدُّهُ خُبَيْبُ بْنُ يَسَافٍ، وَيُقَالُ: إِسَافٌ، لَهُ صُحْبَةٌ.خبیب بن عبدالرحمن اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا خبیب بن یساف رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی غزوے کے لیے نکلے۔ میں آپ ﷺ کے پاس آیا، ابھی میں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، ہم نے عرض کیا: ہمیں شرم آتی ہے کہ ہماری قوم لڑائی میں جائے اور ہم نہ جائیں، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم اسلام قبول کر چکے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم مشرکوں کے خلاف مشرکوں سے مدد نہیں لیں گے۔“ پھر ہم نے اسلام قبول کیا اور آپ ﷺ کے ساتھ لڑائی میں گئے۔ میں نے ایک آدمی کو مارا اور ایک آدمی نے مجھے ضرب لگائی اور میں نے اس کی بیٹی سے شادی کی۔ وہ کہتی تھی: اس آدمی کو تہی دست نہ کر جس نے تجھے یہ جواہر اور موتیوں کا ہار دیا، میں اسے کہتا: تو ایسے آدمی کو تہی دست نہ کر جس نے تیرے باپ کو آگ کی طرف جلدی بھیج دیا۔ خبیب بن عبدالرحمن کے دادا کا نام خبیب بن یساف یا اساف رضی اللہ عنہ تھا، کہا جاتا ہے کہ ان کو صحبتِ رسول ﷺ حاصل ہے۔
عبدالرحمن بن خبیب بن یساف مجہول ہے۔