السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في الاستعانة بالمشركين باب: مشرکین سے جنگ میں مدد لینے کے متعلق کیا احکامات وارد ہوئے ہیں۔
حدیث نمبر: 17878
وَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَمْرٍو الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا خَلَفَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ إِذَا كَتِيبَةٌ، قَالَ: " مَنْ هَؤُلَاءِ؟ ". قَالُوا: بَنُو قَيْنُقَاعَ وَهُمْ رَهْطُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ. قَالَ: " وَأَسْلَمُوا؟ ". قَالُوا: لَا. قَالَ: " بَلْ هُمْ عَلَى دِينِهِمْ ". قَالَ: " قُلْ لَهُمْ فَلْيَرْجِعُوا؛ فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ ". وَهَذَا الْإِسْنَادُ أَصَحُّ.حافظ ثناء اللہ
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ کے لیے نکلے، جب ثنیۃ الوداع سے آگے گئے تو ایک لشکر دیکھا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ لوگوں نے کہا: یہ بنو قینقاع کے لوگ ہیں اور وہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا قبیلہ ہے، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا وہ اسلام لے آئے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ اپنے دین پر ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان سے کہو واپس جائیں، ہم مشرکوں سے مدد نہیں لیتے۔“ سعید بن منذر مجہول الحال ہے۔