قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يُضَمَّنُ قَائِدُهَا وَسَائِقُهَا وَرَاكِبُهَا مَا أَصَابَتْ بِيَدٍ أَوْ فَمٍ أَوْ رِجْلٍ أَوْ ذَنَبٍ، وَاحْتَجَّ فِي ذَلِكَ بِحَدِيثِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جانور کو آگے سے کھینچنے والا، پیچھے سے ہانکنے والا اور اس پر سوار ہونے والا، اس نقصان کا ضامن ہو گا جو وہ جانور اپنے ہاتھ (اگلے پاؤں)، منہ، پاؤں یا دم سے پہنچائے۔“ اور انہوں نے اس بارے میں سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال کیا۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الرِّجْلُ جُبَارٌ " ⦗٥٩٦⦘ فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَأَمَّا مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ: " الرِّجْلُ جُبَارٌ "، فَهُوَ غَلَطٌ وَاللهُ أَعْلَمُ؛ لِأَنَّ الْحُفَّاظَ لَمْ يَحْفَظُوا هَكذَا قَالَ الشَّيْخُ: هَذِهِ الزِّيَادَةُ يَنْفَرِدُ بِهَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدً وَابْنُ جُرَيْجٍ وَمَعْمَرٌ وَعَقِيلٌ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِيهِ الرِّجْلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ”پاؤں کا زخم رائیگاں ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ سے جو یہ روایت کیا گیا ہے کہ ”پاؤں رائیگاں ہے“ تو یہ غلطی ہے، واللہ اعلم، کیونکہ حفاظ نے اسے اس طرح یاد نہیں رکھا۔
شیخ فرماتے ہیں: اس اضافے کو زہری سے صرف سفیان بن حسین نے بیان کیا ہے، جبکہ مالک بن انس، لیث بن سعد، ابن جریج، معمر، عقیل، سفیان بن عیینہ اور دیگر نے اسے زہری سے روایت کیا اور ان میں سے کسی نے اس میں پاؤں کا ذکر نہیں کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ سے جو یہ روایت کیا گیا ہے کہ ”پاؤں رائیگاں ہے“ تو یہ غلطی ہے، واللہ اعلم، کیونکہ حفاظ نے اسے اس طرح یاد نہیں رکھا۔
شیخ فرماتے ہیں: اس اضافے کو زہری سے صرف سفیان بن حسین نے بیان کیا ہے، جبکہ مالک بن انس، لیث بن سعد، ابن جریج، معمر، عقیل، سفیان بن عیینہ اور دیگر نے اسے زہری سے روایت کیا اور ان میں سے کسی نے اس میں پاؤں کا ذکر نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: لَمْ يُتَابِعْ سُفْيَانَ بْنَ حُسَيْنٍ عَلَى قَوْلِهِ: الرِّجْلُ جُبَارٌ وَاحِدٌ، وَهُوَ وَهَمَ لِأَنَّ الثِّقَاتَ خَالَفُوهُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سفیان بن حسین کی پاؤں کے زخم کے رائیگاں ہونے کے بارے میں کسی نے متابعت نہیں کی۔ یہ ان کا وہم ہے، کیونکہ ثقہ راویوں نے ان کی مخالفت کی ہے اور یہ بات ذکر نہیں کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأُشْنَانِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، فَقَالَ: ثِقَةٌ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سفیان بن حسین کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ ثقہ تو ہیں لیکن زہری سے روایت میں ضعیف ہیں۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدَّابَّةُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالرِّجْلُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " فَقَدْ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ: كَذَا قَالَ، وَهُوَ وَهَمَ، وَلَمْ يُتَابِعْهُ عَلَيْهِ أَحَدٌ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شُعْبَةَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ، وَهُوَ الْحَكَمُ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَمُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ وَغَيْرُهُمْ دُونَ هَذِهِ الزِّيَادَةِ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ دُونَ هَذِهِ الزِّيَادَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، پاؤں رائیگاں ہے، کنویں اور معدنیات نکالتے وقت زخمی ہونا رائیگاں ہے اور رکاز میں خمس ہے۔“
امام ابو الحسن دارقطنی فرماتے ہیں: انہوں نے اسی طرح بیان کیا ہے اور یہ وہم ہے، شعبہ سے کسی نے اس پر ان کی متابعت نہیں کی۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث شعبہ سے محمد بن جعفر غندر نے، جو شعبہ کی حدیث میں حَکَم (معیار) ہیں، اور معاذ بن معاذ عنبری، مسلم بن ابراہیم، ابو عمر حوضی وغیرہ نے اس اضافے کے بغیر روایت کی ہے، اور اسی طرح ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے اس اضافے کے بغیر روایت کی ہے۔
امام ابو الحسن دارقطنی فرماتے ہیں: انہوں نے اسی طرح بیان کیا ہے اور یہ وہم ہے، شعبہ سے کسی نے اس پر ان کی متابعت نہیں کی۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث شعبہ سے محمد بن جعفر غندر نے، جو شعبہ کی حدیث میں حَکَم (معیار) ہیں، اور معاذ بن معاذ عنبری، مسلم بن ابراہیم، ابو عمر حوضی وغیرہ نے اس اضافے کے بغیر روایت کی ہے، اور اسی طرح ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے اس اضافے کے بغیر روایت کی ہے۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَاشَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ثنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الزَّيَّاتُ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا ⦗٥٩٧⦘ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالسَّائِمَةُ جُبَارٌ، وَالرِّجْلُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " لَفْظُ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ الْأَعْمَشِ: " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالرِّجْلُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " فَهَذَا مُرْسَلٌ لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ وَرَوَاهُ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ مَوْصُولًا بِذِكْرِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِيهِ، قَالَ: وَقَيْسٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ہزیل بن شرحبیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کان (میں ہونے والا نقصان) رائیگاں ہے، کنواں رائیگاں ہے، چرنے والا جانور رائیگاں ہے، (جانور کا) پاؤں رائیگاں ہے اور رکاز میں خمس ہے۔“ یہ ثوری کی روایت کے الفاظ ہیں، اور اعمش کی روایت میں ہے: ”بے زبان جانور (کا نقصان) رائیگاں ہے، کنواں رائیگاں ہے، کان رائیگاں ہے، پاؤں رائیگاں ہے اور رکاز میں خمس ہے۔“
یہ روایت مرسل ہے، اس سے حجت قائم نہیں ہوتی۔ قیس بن ربیع نے اسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ذکر کے ساتھ موصول بیان کیا ہے، اور قیس قابلِ حجت نہیں ہیں۔
یہ روایت مرسل ہے، اس سے حجت قائم نہیں ہوتی۔ قیس بن ربیع نے اسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ذکر کے ساتھ موصول بیان کیا ہے، اور قیس قابلِ حجت نہیں ہیں۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ثنا أَبُو جَزِيٍّ نَصْرُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ نُعْمَانَ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَوْقَفَ دَابَّةً فِي سَبِيلٍ مِنْ سُبُلِ الْمُسْلِمِينَ، أَوْ فِي أَسْوَاقِهِمْ، فَأَوْطَئَتْ بِيَدٍ أَوْ رِجْلٍ فَهُوَ ضَامِنٌ " أَبُو جَزِيٍّ وَالسَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ضَعِيفَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمانوں کے راستوں میں سے کسی راستے میں یا ان کے بازاروں میں اپنے جانور کو کھڑا کر دے اور وہ کسی کو اپنے اگلے یا پچھلے پاؤں سے روند دے تو وہ اس کا ضامن ہے۔“
ابو جزی اور سری بن اسماعیل دونوں ضعیف ہیں۔
ابو جزی اور سری بن اسماعیل دونوں ضعیف ہیں۔