السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الدابة تنفح برجله باب: جانور کے اپنے پاؤں سے لات (دولتی) مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17693
وَحَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ثنا أَبُو جَزِيٍّ نَصْرُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ نُعْمَانَ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَوْقَفَ دَابَّةً فِي سَبِيلٍ مِنْ سُبُلِ الْمُسْلِمِينَ، أَوْ فِي أَسْوَاقِهِمْ، فَأَوْطَئَتْ بِيَدٍ أَوْ رِجْلٍ فَهُوَ ضَامِنٌ " أَبُو جَزِيٍّ وَالسَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ضَعِيفَانِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمانوں کے راستوں میں سے کسی راستے میں یا ان کے بازاروں میں اپنے جانور کو کھڑا کر دے اور وہ کسی کو اپنے اگلے یا پچھلے پاؤں سے روند دے تو وہ اس کا ضامن ہے۔“
ابو جزی اور سری بن اسماعیل دونوں ضعیف ہیں۔