السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الدابة تنفح برجله باب: جانور کے اپنے پاؤں سے لات (دولتی) مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17692
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَاشَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ثنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الزَّيَّاتُ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا ⦗٥٩٧⦘ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالسَّائِمَةُ جُبَارٌ، وَالرِّجْلُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " لَفْظُ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ الْأَعْمَشِ: " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالرِّجْلُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " فَهَذَا مُرْسَلٌ لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ وَرَوَاهُ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ مَوْصُولًا بِذِكْرِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِيهِ، قَالَ: وَقَيْسٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.حافظ ثناء اللہ
ہزیل بن شرحبیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کان (میں ہونے والا نقصان) رائیگاں ہے، کنواں رائیگاں ہے، چرنے والا جانور رائیگاں ہے، (جانور کا) پاؤں رائیگاں ہے اور رکاز میں خمس ہے۔“ یہ ثوری کی روایت کے الفاظ ہیں، اور اعمش کی روایت میں ہے: ”بے زبان جانور (کا نقصان) رائیگاں ہے، کنواں رائیگاں ہے، کان رائیگاں ہے، پاؤں رائیگاں ہے اور رکاز میں خمس ہے۔“
یہ روایت مرسل ہے، اس سے حجت قائم نہیں ہوتی۔ قیس بن ربیع نے اسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ذکر کے ساتھ موصول بیان کیا ہے، اور قیس قابلِ حجت نہیں ہیں۔