السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الدابة تنفح برجله باب: جانور کے اپنے پاؤں سے لات (دولتی) مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17689
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: لَمْ يُتَابِعْ سُفْيَانَ بْنَ حُسَيْنٍ عَلَى قَوْلِهِ: الرِّجْلُ جُبَارٌ وَاحِدٌ، وَهُوَ وَهَمَ لِأَنَّ الثِّقَاتَ خَالَفُوهُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سفیان بن حسین کی پاؤں کے زخم کے رائیگاں ہونے کے بارے میں کسی نے متابعت نہیں کی۔