أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطًا لِقَوْمٍ فَأَفْسَدَتْ فِيهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْأَمْوَالِ حِفْظُهَا بِالنَّهَارِ، وَمَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا.
حافظ ثناء اللہ
حرام بن سعد بن محیصہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی ایک قوم کے باغ میں داخل ہوگئی اور اسے خراب کر دیا، تو آپ ﷺ نے اس میں فیصلہ فرمایا کہ ”اہلِ اموال اپنے مال کی ان میں خود حفاظت کریں، اگر رات کو کوئی جانور کھیتی خراب کرے تو جانور کا مالک ضامن ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ ضَارِيَةٌ فَدَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فِيهِ، فَكُلِّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى أَنَّ حِفْظَ الْحَوَائِطِ بِالنَّهَارِ عَلَى أَهْلِهَا، وَأَنَّ حِفْظَ الْمَاشِيَةِ بِاللَّيْلِ عَلَى أَهْلِهَا، وَأَنَّ عَلَى أَهْلِ الْمَاشِيَةِ مَا أَفْسَدَتْ مَاشِيَتُهُمْ بِاللَّيْلِ ".
حافظ ثناء اللہ
حرام بن محیصہ انصاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک اونٹنی تھی جو کھیتوں میں گھس جانے کی عادی تھی، وہ ایک باغ میں داخل ہو گئی اور اسے خراب کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں بات کی گئی تو آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت باغوں کی حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے، رات کے وقت مویشیوں کی حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے، اور مویشی رات کو جو نقصان کریں وہ مویشیوں کے مالکوں پر ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ نَاقَةً، لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَفْسَدَتْ فِيهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظُهَا بِالنَّهَارِ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَاشِيَةِ مَا أَفْسَدَتْ مَاشِيَتُهُمْ بِاللَّيْلِ ⦗٥٩٣⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ براء بن عازب کی ایک اونٹنی انصار کے ایک آدمی کے باغ میں داخل ہو گئی اور اسے خراب کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت باغوں کی حفاظت باغ والوں کے ذمے ہے، اور مویشی رات کو جو نقصان کریں وہ مویشیوں کے مالکوں پر ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ ضَارِيَةٌ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَلَمْ يَقُلْهُ أَبُو الْمُغِيرَةِ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکی ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الرَّمَادِيُّ، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ ضَارِيَةٌ فَأَفْسَدَتْ، فَذَكَرَهُ فَقَدْ تَابَعَهُ أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، فِي قَوْلِهِ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے قبل گزر چکا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنَّ نَاقَةً، لِآلِ الْبَرَاءِ أَفْسَدَتْ شَيْئًا، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ حِفْظَ الثِّمَارِ عَلَى أَهْلِهَا بِالنَّهَارِ، وَضَمَّنَ أَهْلَ الْمَاشِيَةِ مَا أَفْسَدَتْ مَاشِيَتُهُمْ بِاللَّيْلِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آل براء کی ایک اونٹنی نے کچھ نقصان کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا: ”کہ دن کے وقت پھلوں کی حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے، اور مویشی رات کو جو نقصان کریں اس کا ضامن مویشیوں کے مالکوں کو ٹھہرایا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُؤَمَّلٌ، ثنا سُفْيَانُ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، وَقَالَ: عَنْ حَرَامٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنَّ نَاقَةً، لَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ فَأَفْسَدَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْأَمْوَالِ حِفْظُهَا بِالنَّهَارِ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي حِفْظُهَا بِاللَّيْلِ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَخَالَفَهُ وُهَيْبٌ وَأَبُو مَسْعُودٍ الزَّجَّاجُ، عَنْ مَعْمَرٍ، فَلَمْ يَقُولَا: عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
حرام بن محیصہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ”کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک اونٹنی ایک آدمی کے باغ میں داخل ہو گئی اور اسے خراب کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت مال والوں پر اس کی حفاظت ہے اور رات کے وقت مویشیوں والوں پر ان کی حفاظت ہے۔“
عبدالرزاق سے ایک جماعت نے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ وہیب اور ابو مسعود زجاج نے معمر سے روایت کرتے ہوئے ان کی مخالفت کی اور ”اپنے والد سے“ نہیں کہا۔
عبدالرزاق سے ایک جماعت نے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ وہیب اور ابو مسعود زجاج نے معمر سے روایت کرتے ہوئے ان کی مخالفت کی اور ”اپنے والد سے“ نہیں کہا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَحَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطًا لِقَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَفْسَدَتْ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى " أَنَّ حِفْظَ الْحَوَائِطِ عَلَى أَهْلِهَا بِالنَّهَارِ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ " وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ شُرَيْحٍ: أَنَّهُ كَانَ يَضْمَنُ مَا أَفْسَدَتِ الْغَنَمُ بِاللَّيْلِ، وَلَا يَضْمَنُ مَا أَفْسَدَتْ بِالنَّهَارِ، وَيَتَأَوَّلُ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ}، وَكَانَ يَقُولُ: النَّفْشُ بِاللَّيْلِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب اور حرام بن سعد بن محیصہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک اونٹنی انصار کے کچھ لوگوں کے باغ میں داخل ہو گئی اور اسے خراب کر دیا، وہ اپنا جھگڑا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے تو آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا: ”کہ دن کے وقت باغوں کی حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے، اور مویشی رات کو جو نقصان کریں وہ مویشیوں کے مالکوں پر ہے۔“
اور ہمیں شعبی کے واسطے سے شریح رحمہ اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ وہ بکریوں کے رات کو کیے گئے نقصان کا ضامن ٹھہراتے تھے اور دن کو کیے گئے نقصان کا ضامن نہیں ٹھہراتے تھے، اور اس آیت کی یہی تفسیر کرتے تھے: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [سورة الأنبياء: 78] اور فرماتے تھے: «نَفْشٌ» رات کے وقت ہوتا ہے۔
اور ہمیں شعبی کے واسطے سے شریح رحمہ اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ وہ بکریوں کے رات کو کیے گئے نقصان کا ضامن ٹھہراتے تھے اور دن کو کیے گئے نقصان کا ضامن نہیں ٹھہراتے تھے، اور اس آیت کی یہی تفسیر کرتے تھے: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [سورة الأنبياء: 78] اور فرماتے تھے: «نَفْشٌ» رات کے وقت ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرَّفَّاءُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَزْهَرُ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ: {إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ} [الأنبياء: ٧٨]، قَالَ: كَانَ النَّفْشُ بِاللَّيْلِ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ شریح رحمہ اللہ نے اس آیت: ﴿إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [سورة الأنبياء: 78] کے بارے میں فرمایا: «نَفْشٌ» ”رات کے وقت ہوتا تھا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أُتِيَ شُرَيْحٌ بِشَاةٍ أَكَلَتْ عَجِينًا، فَقَالَ: نَهَارًا أَوْ لَيْلًا؟ قَالُوا: نَهَارًا، فَأَبْطَلَهُ وَقَرَأَ: {إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ} [الأنبياء: ٧٨]، وَقَالَ: إِنَّمَا النَّفْشُ بِاللَّيْلِ وَفِي رِوَايَةِ قَتَادَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ: أَنَّ شُرَيْحًا رُفِعَتْ إِلَيْهِ شَاةٌ أَصَابَتْ غَزْلًا، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: أَبْصِرُوهُ، فَإِنَّهُ سَيَسْأَلُهُمْ: أَبِلَيْلٍ كَانَ أَمْ بِنَهَارٍ؟ فَسَأَلَهُمْ فَقَالَ: إِنْ كَانَ بِلَيْلٍ فَقَدْ ضَمَنْتُمْ، وَإِنْ كَانَ بِنَهَارٍ فَلَا ضَمَانَ عَلَيْكُمْ، قَالَ: وَقَالَ: النَّفْشُ بِاللَّيْلِ، وَالْهَمَلُ بِالنَّهَارِ وَرَوَى مُرَّةُ عَنْ مَسْرُوقٍ: {إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ} [الأنبياء: ٧٨]، قَالَ: كَانَ كَرْمًا فَدَخَلَتْ فِيهِ لَيْلًا، فَمَا تَرَكَتْ فِيهِ خَضِرًا.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک بکری لائی گئی جس نے آٹا کھایا تھا، تو انہوں نے پوچھا: دن میں یا رات میں؟ کہا: دن میں، تو اسے باطل قرار دے دیا اور یہ آیت پڑھی: ﴿إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [سورة الأنبياء: 78] اور فرمایا: «نَفْشٌ» ”تو رات کے وقت ہی ہوتا ہے۔“
اور قتادہ کی شعبی سے روایت میں ہے کہ شریح کے پاس ایک بکری کا معاملہ لایا گیا جس نے سوت خراب کر دیا تھا، تو شعبی نے کہا: انہیں دیکھو، یہ ان سے پوچھیں گے کہ رات کو ہوا یا دن کو؟ چنانچہ انہوں نے پوچھا اور فرمایا: اگر رات کو ہوا ہے تو تم ضامن ہو اور اگر دن کو ہوا ہے تو تم پر کوئی ضمان نہیں۔ اور فرمایا: نفش رات کو ہوتا ہے اور ہمل (بغیر چرواہے کے چرنا) دن کو۔
اور مرہ نے مسروق سے ﴿إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [سورة الأنبياء: 78] کے بارے میں روایت کیا کہ وہ انگور کا باغ تھا، بکریاں رات کو اس میں گھس گئیں اور اس میں کوئی ہری چیز نہ چھوڑی۔
اور قتادہ کی شعبی سے روایت میں ہے کہ شریح کے پاس ایک بکری کا معاملہ لایا گیا جس نے سوت خراب کر دیا تھا، تو شعبی نے کہا: انہیں دیکھو، یہ ان سے پوچھیں گے کہ رات کو ہوا یا دن کو؟ چنانچہ انہوں نے پوچھا اور فرمایا: اگر رات کو ہوا ہے تو تم ضامن ہو اور اگر دن کو ہوا ہے تو تم پر کوئی ضمان نہیں۔ اور فرمایا: نفش رات کو ہوتا ہے اور ہمل (بغیر چرواہے کے چرنا) دن کو۔
اور مرہ نے مسروق سے ﴿إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [سورة الأنبياء: 78] کے بارے میں روایت کیا کہ وہ انگور کا باغ تھا، بکریاں رات کو اس میں گھس گئیں اور اس میں کوئی ہری چیز نہ چھوڑی۔