❮
❯
حدیث نمبر: 17676
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ ضَارِيَةٌ فَدَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فِيهِ، فَكُلِّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى أَنَّ حِفْظَ الْحَوَائِطِ بِالنَّهَارِ عَلَى أَهْلِهَا، وَأَنَّ حِفْظَ الْمَاشِيَةِ بِاللَّيْلِ عَلَى أَهْلِهَا، وَأَنَّ عَلَى أَهْلِ الْمَاشِيَةِ مَا أَفْسَدَتْ مَاشِيَتُهُمْ بِاللَّيْلِ ".
حافظ ثناء اللہ

حرام بن محیصہ انصاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک اونٹنی تھی جو کھیتوں میں گھس جانے کی عادی تھی، وہ ایک باغ میں داخل ہو گئی اور اسے خراب کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں بات کی گئی تو آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت باغوں کی حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے، رات کے وقت مویشیوں کی حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے، اور مویشی رات کو جو نقصان کریں وہ مویشیوں کے مالکوں پر ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17676