السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الضمان على البهائم باب: جانوروں کے نقصان پر تاوان (ضمان) عائد ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَحَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطًا لِقَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَفْسَدَتْ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى " أَنَّ حِفْظَ الْحَوَائِطِ عَلَى أَهْلِهَا بِالنَّهَارِ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ " وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ شُرَيْحٍ: أَنَّهُ كَانَ يَضْمَنُ مَا أَفْسَدَتِ الْغَنَمُ بِاللَّيْلِ، وَلَا يَضْمَنُ مَا أَفْسَدَتْ بِالنَّهَارِ، وَيَتَأَوَّلُ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ}، وَكَانَ يَقُولُ: النَّفْشُ بِاللَّيْلِ.سعید بن مسیب اور حرام بن سعد بن محیصہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک اونٹنی انصار کے کچھ لوگوں کے باغ میں داخل ہو گئی اور اسے خراب کر دیا، وہ اپنا جھگڑا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے تو آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا: ”کہ دن کے وقت باغوں کی حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے، اور مویشی رات کو جو نقصان کریں وہ مویشیوں کے مالکوں پر ہے۔“
اور ہمیں شعبی کے واسطے سے شریح رحمہ اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ وہ بکریوں کے رات کو کیے گئے نقصان کا ضامن ٹھہراتے تھے اور دن کو کیے گئے نقصان کا ضامن نہیں ٹھہراتے تھے، اور اس آیت کی یہی تفسیر کرتے تھے: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [سورة الأنبياء: 78] اور فرماتے تھے: «نَفْشٌ» رات کے وقت ہوتا ہے۔