السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: الضمان على البهائم باب: جانوروں کے نقصان پر تاوان (ضمان) عائد ہونے کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أُتِيَ شُرَيْحٌ بِشَاةٍ أَكَلَتْ عَجِينًا، فَقَالَ: نَهَارًا أَوْ لَيْلًا؟ قَالُوا: نَهَارًا، فَأَبْطَلَهُ وَقَرَأَ: {إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ} [الأنبياء: ٧٨]، وَقَالَ: إِنَّمَا النَّفْشُ بِاللَّيْلِ وَفِي رِوَايَةِ قَتَادَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ: أَنَّ شُرَيْحًا رُفِعَتْ إِلَيْهِ شَاةٌ أَصَابَتْ غَزْلًا، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: أَبْصِرُوهُ، فَإِنَّهُ سَيَسْأَلُهُمْ: أَبِلَيْلٍ كَانَ أَمْ بِنَهَارٍ؟ فَسَأَلَهُمْ فَقَالَ: إِنْ كَانَ بِلَيْلٍ فَقَدْ ضَمَنْتُمْ، وَإِنْ كَانَ بِنَهَارٍ فَلَا ضَمَانَ عَلَيْكُمْ، قَالَ: وَقَالَ: النَّفْشُ بِاللَّيْلِ، وَالْهَمَلُ بِالنَّهَارِ وَرَوَى مُرَّةُ عَنْ مَسْرُوقٍ: {إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ} [الأنبياء: ٧٨]، قَالَ: كَانَ كَرْمًا فَدَخَلَتْ فِيهِ لَيْلًا، فَمَا تَرَكَتْ فِيهِ خَضِرًا.شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک بکری لائی گئی جس نے آٹا کھایا تھا، تو انہوں نے پوچھا: دن میں یا رات میں؟ کہا: دن میں، تو اسے باطل قرار دے دیا اور یہ آیت پڑھی: ﴿إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [سورة الأنبياء: 78] اور فرمایا: «نَفْشٌ» ”تو رات کے وقت ہی ہوتا ہے۔“
اور قتادہ کی شعبی سے روایت میں ہے کہ شریح کے پاس ایک بکری کا معاملہ لایا گیا جس نے سوت خراب کر دیا تھا، تو شعبی نے کہا: انہیں دیکھو، یہ ان سے پوچھیں گے کہ رات کو ہوا یا دن کو؟ چنانچہ انہوں نے پوچھا اور فرمایا: اگر رات کو ہوا ہے تو تم ضامن ہو اور اگر دن کو ہوا ہے تو تم پر کوئی ضمان نہیں۔ اور فرمایا: نفش رات کو ہوتا ہے اور ہمل (بغیر چرواہے کے چرنا) دن کو۔
اور مرہ نے مسروق سے ﴿إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [سورة الأنبياء: 78] کے بارے میں روایت کیا کہ وہ انگور کا باغ تھا، بکریاں رات کو اس میں گھس گئیں اور اس میں کوئی ہری چیز نہ چھوڑی۔