کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے اور اسے قتل کر دے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو دیکھوں تو اسے چھوڑ دوں اور چار گواہ تلاش کروں؟ فرمایا: ”ہاں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ الرَّجُلُ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا " قَالَ سَعْدٌ: بَلَى وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ " ⦗٥٨٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکی ہے۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَالَ رَجُلٌ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ، وَإِنْ تَكَلَّمَ بِهِ جَلَدْتُمُوهُ، لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَاتِ اللِّعَانِ، ثُمَّ جَاءَ الرَّجُلُ فَقَذَفَ امْرَأَتَهُ، فَلَاعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ: " عَسَى أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا "، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو دیکھوں اور اسے قتل کر دوں تو تم مجھے قتل کر دو گے، اگر اس پر تہمت لگاؤں تو حدِ قذف لگاؤ گے، میں نبی ﷺ کو جا کر یہ بتاتا ہوں، تو وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور یہ بات ذکر کی تو آیتِ لعان نازل ہوئی۔ پھر ایک شخص نے آ کر اپنی بیوی پر الزام لگایا تو آپ ﷺ نے ان کے درمیان لعان کروایا اور فرمایا: ”یہ سیاہ موٹی پنڈلی والا بچہ جنے گی“ پھر اس نے ویسا ہی بچہ جنا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرِجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ خَيْبَرِيٍّ، وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ، أَوْ فَقَتَلَهُمَا، فَأُشْكِلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ الْقَضَاءُ، فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ يَسْأَلُ لَهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَسَأَلَ أَبُو مُوسَى عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ عَلِيٌّ: إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِي، عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَتُخْبِرَنِّي، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: كَتَبَ إِلِيَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ، " إِنْ لَمْ يَأْتِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَلْيُعْطَ بِرُمَّتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل شام میں سے کسی نے اپنی بیوی کے ساتھ دوسرے کو دیکھا تو ان دونوں کو قتل کر دیا؛ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس فیصلے میں بڑے پریشان ہوئے تو انہوں نے یہ بات سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجی کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ ایسی چیز ہے جو ہماری زمین میں نہیں ہے، تو انہوں نے کہا: مجھ سے معاویہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں ابو الحسن یہ کہتا ہوں کہ اگر وہ چار گواہ نہیں لاتا تو اسے قصاص دلایا جائے۔
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا ثَابِتٌ، وَحُمَيْدٌ، وَمَطَرٌ، وَعَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مِنَ الْعَرَبِ نَزَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ فَذَبَحَ لَهُمْ شَاةً، وَلَهُ ابْنَتَانِ فَقَالَ لِإِحْدَاهُمَا: اذْهَبِي فَاحْتَطِبِي، قَالَ: فَذَهَبَتْ فَلَمَّا تَبَاعَدَتْ تَبِعَهَا أَحَدُهُمْ فَرَاوَدَهَا عَنْ نَفْسِهَا فَقَالَتِ: اتَّقِ اللهَ، وَنَاشَدَتْهُ فَأَبَى عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: رُوَيْدَكَ حَتَّى أَسْتَصْلِحَ لَكَ، فَذَهَبَتْ وَنَامَ، فَجَاءَتْ بِصَخْرَةٍ فَفَلَقَتْ رَأْسَهُ فَقَتَلَتْهُ، فَجَاءَتْ إِلَى أَبِيهَا فَأَخْبَرَتْهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: اسْكُتِي، لَا تُخْبِرِي أَحَدًا، فَهَيَّأَ الطَّعَامَ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: كُلُوا، فَقَالُوا: حَتَّى يَجِيءَ صَاحِبُنَا، فَقَالَ: كُلُوا، فَإِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ، فَلَمَّا أَكَلُوا حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْأَمْرِ كَيْتَ ⦗٥٨٦⦘ وَكَيْتَ، فَقَالُوا: يَا عَدُوَّ اللهِ قَتَلْتَ صَاحِبَنَا، وَاللهِ لَنَقْتُلَنَّكَ بِهِ، فَارْتَفَعُوا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " مَا كَانَ اسْمُ صَاحِبِكُمْ؟ " فَقَالُوا: غَفَلٌ، قَالَ: " هُوَ كَاسْمِهِ، وَأَبْطَلَ دَمَهُ " فَهَذَا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کے پاس عرب میں سے کچھ لوگ آئے، اس کی دو بیٹیاں تھیں۔ اس نے بکری ذبح کی اور ایک بیٹی سے کہا کہ لکڑیاں اکٹھی کرو، وہ گئی تو ان مہمانوں میں سے ایک شخص اس کے پیچھے گیا تو اس لڑکی نے خطرہ محسوس کیا، وہ کہنے لگی: اللہ سے ڈر، اور اسے قسم دی، لیکن اس نے انکار کر دیا تو اس نے کہا: ٹھہرو تو میں تمہارے لیے تیار ہو جاؤں، وہ چلی گئی اور وہ شخص سو گیا۔ رات کے پہر میں وہ لڑکی پتھر لائی اور اس شخص کے سر کو کچل کر اسے قتل کر دیا اور اپنے باپ کو آکر ساری بات بتا دی تو اس کے والد نے کہا: خاموش رہو، کسی کو نہ بتانا۔ کھانا لگاؤ، انہوں نے کہا: کھاؤ، تو مہمانوں نے کہا: ہمارا ساتھی آجائے، تو وہ کہنے لگا: آپ کھاؤ وہ آجائے گا۔ جب انہوں نے کھا لیا اور اللہ کا شکر ادا کر لیا تو اس نے سارا معاملہ انہیں بتا دیا اور وہ کہنے لگے: اے اللہ کے دشمن! تو نے ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے، ہم تجھے قتل کریں گے، تو وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اسے لے آئے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اس کا نام کیا تھا؟ کہا: «غَفْلٌ» ”غفل“، فرمایا: وہ اپنے نام جیسا تھا اور اس کے خون کو باطل قرار دے دیا۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا أَضَافَ نَاسًا مِنْ هُذَيْلٍ، فَذَهَبَتْ جَارِيَةٌ لَهُمْ تَحْتَطِبُ فَأَرَادَهَا رَجُلٌ مِنْهُمْ عَنْ نَفْسِهَا، فَرَمَتْهُ بِفِهْرٍ فَقَتَلَتْهُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " ذَاكَ قَتِيلٌ اللهِ وَاللهِ لَا يُودَى أَبَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: هَذَا عِنْدَنَا مِنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ الْبَيِّنَةَ قَامَتْ عِنْدَهُ عَلَى الْمَقْتُولِ، أَوْ عَلَى أَنَّ وَلِيَّ الْمَقْتُولِ أَقَرَّ عِنْدَهُ بِمَا يُوجِبُ لَهُ أَنْ يَقْتُلَ الْمَقْتُولَ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہمارے نزدیک بھی ہے کہ مقتول پر حجت قائم ہو گئی تھی اور اس کے ولی نے وجہ قتل کو قبول کر لیا تھا۔