السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: : الرجل يجد مع امرأته الرجل فيقتله باب: اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے اور اسے قتل کر دے۔
حدیث نمبر: 17647
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرِجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ خَيْبَرِيٍّ، وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ، أَوْ فَقَتَلَهُمَا، فَأُشْكِلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ الْقَضَاءُ، فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ يَسْأَلُ لَهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَسَأَلَ أَبُو مُوسَى عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ عَلِيٌّ: إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِي، عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَتُخْبِرَنِّي، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: كَتَبَ إِلِيَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ، " إِنْ لَمْ يَأْتِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَلْيُعْطَ بِرُمَّتِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل شام میں سے کسی نے اپنی بیوی کے ساتھ دوسرے کو دیکھا تو ان دونوں کو قتل کر دیا؛ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس فیصلے میں بڑے پریشان ہوئے تو انہوں نے یہ بات سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجی کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ ایسی چیز ہے جو ہماری زمین میں نہیں ہے، تو انہوں نے کہا: مجھ سے معاویہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں ابو الحسن یہ کہتا ہوں کہ اگر وہ چار گواہ نہیں لاتا تو اسے قصاص دلایا جائے۔