السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: : الرجل يجد مع امرأته الرجل فيقتله باب: اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے اور اسے قتل کر دے۔
حدیث نمبر: 17649
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا أَضَافَ نَاسًا مِنْ هُذَيْلٍ، فَذَهَبَتْ جَارِيَةٌ لَهُمْ تَحْتَطِبُ فَأَرَادَهَا رَجُلٌ مِنْهُمْ عَنْ نَفْسِهَا، فَرَمَتْهُ بِفِهْرٍ فَقَتَلَتْهُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " ذَاكَ قَتِيلٌ اللهِ وَاللهِ لَا يُودَى أَبَدًا ".حافظ ثناء اللہ
عبید بن عمیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ہذیل کے کچھ لوگوں کی مہمانی کی، ان کی ایک لونڈی لکڑیاں اکٹھی کرنے گئی تو ان میں سے ایک آدمی نے اس سے برائی کا ارادہ کیا، اس نے اسے پتھر مار کر قتل کر دیا۔ یہ معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ اللہ کا مارا ہوا ہے، اللہ کی قسم! اس کی دیت کبھی ادا نہیں کی جائے گی۔“