السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: : الرجل يجد مع امرأته الرجل فيقتله باب: اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے اور اسے قتل کر دے۔
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا ثَابِتٌ، وَحُمَيْدٌ، وَمَطَرٌ، وَعَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مِنَ الْعَرَبِ نَزَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ فَذَبَحَ لَهُمْ شَاةً، وَلَهُ ابْنَتَانِ فَقَالَ لِإِحْدَاهُمَا: اذْهَبِي فَاحْتَطِبِي، قَالَ: فَذَهَبَتْ فَلَمَّا تَبَاعَدَتْ تَبِعَهَا أَحَدُهُمْ فَرَاوَدَهَا عَنْ نَفْسِهَا فَقَالَتِ: اتَّقِ اللهَ، وَنَاشَدَتْهُ فَأَبَى عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: رُوَيْدَكَ حَتَّى أَسْتَصْلِحَ لَكَ، فَذَهَبَتْ وَنَامَ، فَجَاءَتْ بِصَخْرَةٍ فَفَلَقَتْ رَأْسَهُ فَقَتَلَتْهُ، فَجَاءَتْ إِلَى أَبِيهَا فَأَخْبَرَتْهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: اسْكُتِي، لَا تُخْبِرِي أَحَدًا، فَهَيَّأَ الطَّعَامَ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: كُلُوا، فَقَالُوا: حَتَّى يَجِيءَ صَاحِبُنَا، فَقَالَ: كُلُوا، فَإِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ، فَلَمَّا أَكَلُوا حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْأَمْرِ كَيْتَ ⦗٥٨٦⦘ وَكَيْتَ، فَقَالُوا: يَا عَدُوَّ اللهِ قَتَلْتَ صَاحِبَنَا، وَاللهِ لَنَقْتُلَنَّكَ بِهِ، فَارْتَفَعُوا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " مَا كَانَ اسْمُ صَاحِبِكُمْ؟ " فَقَالُوا: غَفَلٌ، قَالَ: " هُوَ كَاسْمِهِ، وَأَبْطَلَ دَمَهُ " فَهَذَا مُرْسَلٌ.عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کے پاس عرب میں سے کچھ لوگ آئے، اس کی دو بیٹیاں تھیں۔ اس نے بکری ذبح کی اور ایک بیٹی سے کہا کہ لکڑیاں اکٹھی کرو، وہ گئی تو ان مہمانوں میں سے ایک شخص اس کے پیچھے گیا تو اس لڑکی نے خطرہ محسوس کیا، وہ کہنے لگی: اللہ سے ڈر، اور اسے قسم دی، لیکن اس نے انکار کر دیا تو اس نے کہا: ٹھہرو تو میں تمہارے لیے تیار ہو جاؤں، وہ چلی گئی اور وہ شخص سو گیا۔ رات کے پہر میں وہ لڑکی پتھر لائی اور اس شخص کے سر کو کچل کر اسے قتل کر دیا اور اپنے باپ کو آکر ساری بات بتا دی تو اس کے والد نے کہا: خاموش رہو، کسی کو نہ بتانا۔ کھانا لگاؤ، انہوں نے کہا: کھاؤ، تو مہمانوں نے کہا: ہمارا ساتھی آجائے، تو وہ کہنے لگا: آپ کھاؤ وہ آجائے گا۔ جب انہوں نے کھا لیا اور اللہ کا شکر ادا کر لیا تو اس نے سارا معاملہ انہیں بتا دیا اور وہ کہنے لگے: اے اللہ کے دشمن! تو نے ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے، ہم تجھے قتل کریں گے، تو وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اسے لے آئے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اس کا نام کیا تھا؟ کہا: «غَفْلٌ» ”غفل“، فرمایا: وہ اپنے نام جیسا تھا اور اس کے خون کو باطل قرار دے دیا۔