قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ} [المائدة: 33].
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ﴾ ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں (عبرت ناک طریقے سے) قتل کیا جائے، یا سولی دی جائے، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں، یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔“ [سورة المائدة: 33]
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَهْطًا، مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ ضَرْعٍ، وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ، فَاسْتَوْخَمْنَا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَزَادٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، " فَأَمَرَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، وَتَرَكَهُمْ فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا وَهُمْ كَذَلِكَ " قَالَ قَتَادَةُ: فَذُكِرَ لَنَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِمْ، يَعْنِي: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا} [المائدة: ٣٣] الْآيَةَ، قَالَ قَتَادَةُ: وَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى الصَّدَقَةِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عکل اور عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”یا رسول اللہ! ہم دودھ پینے والے (مویشیوں والے) لوگ ہیں، زمین (کھیتی) والے ہم نہیں ہیں“، اور انہیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، تو آپ ﷺ نے ان کے لیے کچھ اونٹوں اور زادِ راہ کا حکم دیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان (اونٹوں) کے ساتھ باہر چلے جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ وہ چلے گئے، یہاں تک کہ جب حرہ کے ایک کنارے پر پہنچے تو انہوں نے نبی ﷺ کے چرواہے کو قتل کر دیا، اونٹ ہانک کر لے گئے اور اسلام لانے کے بعد کافر ہو گئے۔ نبی ﷺ نے ان کی تلاش میں (آدمی) بھیجے، پھر آپ ﷺ نے ان کے بارے میں حکم دیا تو ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروائیں اور انہیں حرہ کے کنارے چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔
اور قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں بتایا گیا کہ آیت: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا﴾ [سورة المائدة: 33] انہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اپنے خطبے میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ (اعضاء کاٹ کر صورت بگاڑنے) سے منع فرماتے تھے۔
اور قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں بتایا گیا کہ آیت: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا﴾ [سورة المائدة: 33] انہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اپنے خطبے میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ (اعضاء کاٹ کر صورت بگاڑنے) سے منع فرماتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ أَحْمَدُ: يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ أُنَاسًا، أَغَارُوا عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوهَا وَارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا " فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ "، قَالَ: وَنَزَلَتْ فِيهِمْ آيَةُ الْمُحَارَبَةِ، وَهُمُ الَّذِينَ أَخْبَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْهُمُ الْحَجَّاجَ حِينَ سَأَلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں پر حملہ کیا اور ان کو ہانک کر لے گئے، اسلام سے مرتد ہو گئے اور رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کو قتل کر دیا، تو آپ ﷺ نے ان کا تعاقب کروایا، وہ پکڑے گئے تو آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ وہ کہتے ہیں: انہی کے بارے میں محاربہ والی آیت نازل ہوئی، اور یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حجاج کو اس کے پوچھنے پر بتایا تھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَطَعَ الَّذِينَ سَرَقُوا لِقَاحَهُ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ بِالنَّارِ عَاتَبَهُ اللهُ فِي ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا} [المائدة: ٣٣]، الْآيَةَ قَوْلُ قَتَادَةَ وَأَبِي الزِّنَادِ وَغَيْرِهِمَا: نُزُولُ الْآيَةِ فِيهِمْ، مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابوزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نے ان لوگوں کے (ہاتھ پاؤں) کاٹے جنہوں نے آپ کی دودھ والی اونٹنیاں چرائی تھیں اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھروائی تو اللہ نے آپ کو ڈانٹا اور یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا﴾ [سورة المائدة: 33]۔
قتادہ، ابوزناد وغیرہ کا یہ قول کہ یہ آیت انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی، مرسل ہے۔
قتادہ، ابوزناد وغیرہ کا یہ قول کہ یہ آیت انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی، مرسل ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي ابْنُ سِيرِينَ، " أَنَّ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ، يَعْنِي مَا فَعَلَ بِالْعُرَنِيِّينَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ (سزا) حدود کے نزول سے پہلے کی ہے، یعنی جو عرینہ کے لوگوں کے ساتھ کیا گیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرَوَيْهِ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ قَتْلُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ: زَانٍ بَعْدَ إِحْصَانٍ، وَرَجُلٌ قَتَلَ يُقْتَلُ بِهِ، وَرَجُلٌ خَرَجَ مُحَارِبًا لِلَّهِ وَرَسُولِهُ فَيُقْتَلُ أَوْ يُصْلَبُ أَوْ يُنْفَى مِنَ الْأَرْضِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے لائق نہیں کہ دوسرے کلمہ پڑھنے والے مسلمان کو قتل کرے، سوائے تین وجوہات کے: ایک شادی شدہ زانی، دوسرا قصاص کے طور پر، اور تیسرا وہ آدمی جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے کے لیے نکلے، اسے یا تو قتل کر دیا جائے یا سولی پر لٹکایا جائے یا جلا وطن کر دیا جائے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صَالِحٍ، مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قُطَّاعِ الطَّرِيقِ: " إِذَا قَتَلُوا وَأَخَذُوا الْمَالَ قُتِلُوا وَصُلِبُوا، وَإِذَا قَتَلُوا وَلَمْ يَأْخُذُوا الْمَالَ قُتِلُوا وَلَمْ يُصْلَبُوا، وَإِذَا أَخَذُوا الْمَالَ وَلَمْ يَقْتُلُوا قُطِعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ، وَإِذَا أَخَافُوا السَّبِيلَ وَلَمْ يَأْخُذُوا مَالًا نُفُوا مِنَ الْأَرْضِ " وَلِإِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي يَحْيَى فِي هَذَا إِسْنَادٌ آخَرُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر ڈاکو مال لوٹ کر قتل کر دیں تو انہیں قتل کر کے سولی پر لٹکایا جائے، اور اگر قتل کر دیں اور مال نہ لوٹیں تو صرف ان کو قتل کیا جائے، اور جب صرف مال لوٹیں اور قتل نہ کریں تو ان کے خلاف سے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں، اور اگر صرف ڈرائیں، نہ مال لوٹیں اور نہ قتل کریں تو انہیں جلا وطن کیا جائے۔
وأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُحَارِبِ {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ} [المائدة: ٣٣] إِذَا عَدَا فَقَطَعَ ⦗٤٩٢⦘ الطَّرِيقَ فَقَتَلَ وَأَخَذَ الْمَالَ صُلِبَ، فَإِنْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْخُذْ مَالًا قُتِلَ، فَإِنْ أَخَذَ الْمَالَ وَلَمْ يَقْتُلْ قُطِعَ مِنْ خِلَافٍ، فَإِنْ هَرَبَ وَأَعْجَزَهُمْ فَذَلِكَ نَفْيُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ [سورة المائدة: 33] محارب (لڑنے والے) کے بارے میں نازل ہوئی: جب وہ زیادتی کرے، راستہ لوٹے، قتل کرے اور مال بھی لے تو اسے سولی دی جائے گی، اور اگر قتل کرے اور مال نہ لے تو اسے قتل کیا جائے گا، اور اگر مال لے اور قتل نہ کرے تو اس کے (ہاتھ پاؤں) مخالف سمت سے کاٹے جائیں گے، اور اگر وہ بھاگ جائے اور انہیں عاجز کر دے (ہاتھ نہ آئے) تو یہی اس کی جلا وطنی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، ثنا أَبِي، حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ} [المائدة: ٣٣] الْآيَةَ، قَالَ: " إِذَا حَارَبَ فَقَتَلَ فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ إِذَا ظَهَرَ عَلَيْهِ قَبْلَ تَوْبَتِهِ، وَإِذَا حَارَبَ وَأَخَذَ الْمَالَ وَقَتَلَ فَعَلَيْهِ الصَّلْبُ إِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِ قَبْلَ تَوْبَتِهِ، وَإِذَا حَارَبَ وَأَخَذَ الْمَالَ وَلَمْ يَقْتُلْ فَعَلَيْهِ قَطْعُ الْيَدِ وَالرِّجْلِ مِنْ خِلَافٍ إِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِ قَبْلَ تَوْبَتِهِ، وَإِذَا حَارَبَ وَأَخَافَ السَّبِيلَ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ النَّفْيُ وَنَفْيُهُ أَنْ يُطْلَبَ " وَرَوَى عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنْ أَخَذَ وَقَدْ أَصَابَ الْمَالَ وَلَمْ يُصِبِ الدَّمَ قُطِعَتْ يَدُهُ وَرِجْلُهُ مِنْ خِلَافٍ، وَإِنْ وُجِدَ وَقَدْ أَصَابَ الدَّمَ قُتِلَ وَصُلِبَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اسی آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب ڈاکو لڑائی کر کے کسی کو قتل کردیں اور توبہ سے پہلے ظاہر ہوجائیں تو قتل کیے جائیں گے۔ اگر لڑائی کریں، مال بھی لوٹیں اور قتل بھی کریں اور توبہ سے پہلے ظاہر ہوجائیں تو سولی پر لٹکایا جائے گا۔ اگر وہ لڑائی کریں، مال لوٹیں لیکن قتل نہ کریں تو ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کاٹے جائیں گے۔ اگر وہ لڑائی کریں اور لوگوں کو ڈرائیں تو انہیں جلا وطن کیا جائے، اور اس کی جلا وطنی یہ ہے کہ اس کا پیچھا کیا جائے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر وہ اس حال میں پکڑا جائے کہ اس نے مال لوٹا ہو لیکن خون نہ بہایا ہو تو اس کا ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹے جائیں گے، اور اگر اس حال میں پایا جائے کہ اس نے خون بہایا ہو تو اسے قتل کر کے سولی پر لٹکایا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا} [المائدة: ٣٣] الْآيَةَ، قَالَ: " حُدُودٌ أَرْبَعَةٌ أَنْزَلَهَا اللهُ: فَأَمَّا مَنْ حَارَبَ فَسَفَكَ الدَّمَ وَأَخَذَ الْمَالَ فَإِنَّ عَلَيْهِ الصَّلْبَ، وَأَمَّا مَنْ حَارَبَ فَسَفَكَ الدَّمَ وَلَمْ يَأْخُذْ مَالًا فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ، أَمَّا مَنْ حَارَبَ وَأَخَذَ الْمَالَ وَلَمْ يَسْفِكْ دَمًا فَإِنَّ عَلَيْهِ النَّفْيَ " وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوَرِّقٍ وَرُوِّينَاهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَاخْتِلَافُ حُدُودِهُمْ بِاخْتِلَافِ أَفْعَالِهِمْ عَلَى مَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، إِنْ شَاءَ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا﴾ [سورة المائدة: 33] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے 4 حدود نازل فرمائی ہیں؛ جو لڑے، خون بہائے اور مال لوٹے تو اس پر سولی ہے، اور جو لڑے اور خون بہائے لیکن مال نہ لوٹے تو اس پر قتل ہے، اور جو لڑے اور مال لوٹے لیکن خون نہ بہائے تو اس پر جلا وطنی ہے۔