❮
❯
حدیث نمبر: 17315
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، ثنا أَبِي، حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ} [المائدة: ٣٣] الْآيَةَ، قَالَ: " إِذَا حَارَبَ فَقَتَلَ فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ إِذَا ظَهَرَ عَلَيْهِ قَبْلَ تَوْبَتِهِ، وَإِذَا حَارَبَ وَأَخَذَ الْمَالَ وَقَتَلَ فَعَلَيْهِ الصَّلْبُ إِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِ قَبْلَ تَوْبَتِهِ، وَإِذَا حَارَبَ وَأَخَذَ الْمَالَ وَلَمْ يَقْتُلْ فَعَلَيْهِ قَطْعُ الْيَدِ وَالرِّجْلِ مِنْ خِلَافٍ إِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِ قَبْلَ تَوْبَتِهِ، وَإِذَا حَارَبَ وَأَخَافَ السَّبِيلَ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ النَّفْيُ وَنَفْيُهُ أَنْ يُطْلَبَ " وَرَوَى عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنْ أَخَذَ وَقَدْ أَصَابَ الْمَالَ وَلَمْ يُصِبِ الدَّمَ قُطِعَتْ يَدُهُ وَرِجْلُهُ مِنْ خِلَافٍ، وَإِنْ وُجِدَ وَقَدْ أَصَابَ الدَّمَ قُتِلَ وَصُلِبَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اسی آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب ڈاکو لڑائی کر کے کسی کو قتل کردیں اور توبہ سے پہلے ظاہر ہوجائیں تو قتل کیے جائیں گے۔ اگر لڑائی کریں، مال بھی لوٹیں اور قتل بھی کریں اور توبہ سے پہلے ظاہر ہوجائیں تو سولی پر لٹکایا جائے گا۔ اگر وہ لڑائی کریں، مال لوٹیں لیکن قتل نہ کریں تو ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کاٹے جائیں گے۔ اگر وہ لڑائی کریں اور لوگوں کو ڈرائیں تو انہیں جلا وطن کیا جائے، اور اس کی جلا وطنی یہ ہے کہ اس کا پیچھا کیا جائے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر وہ اس حال میں پکڑا جائے کہ اس نے مال لوٹا ہو لیکن خون نہ بہایا ہو تو اس کا ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹے جائیں گے، اور اگر اس حال میں پایا جائے کہ اس نے خون بہایا ہو تو اسے قتل کر کے سولی پر لٹکایا جائے گا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17315
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»