أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " لَيْسَ عَلَى مَنْ سَرَقَ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ قَطْعٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو بیت المال سے چوری کرے اس کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، أنبأ سَعِيدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ الْأَبْرَصِ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّحَبَةِ وَهُوَ يَقْسِمُ خُمُسًا بَيْنَ النَّاسِ، فَسَرَقَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ مِغْفَرَ حَدِيدٍ مِنَ الْمَتَاعِ، فَأُتِيَ بِهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " لَيْسَ عَلَيْهِ قَطْعٌ، هُوَ خَائِنٌ، وَلَهُ نَصِيبٌ " وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ دِثَارِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ الْأَبْرَصِ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرَجُلٍ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عبید بن ابرص کہتے ہیں کہ میں رحبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، آپ لوگوں میں خمس تقسیم کر رہے تھے کہ حضرموت کے ایک شخص نے سامان میں سے لوہے کا ایک خود چوری کر لیا، اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کا ہاتھ نہیں کٹے گا، یہ خائن ہے، اس کے لیے (اس میں) حصہ ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: أَخْبَرَنَا بَعْضُ أَشْيَاخِنَا، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عَبْدًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمُسِ سَرَقَ مِنَ الْخُمُسِ فَلَمْ يَقْطَعْهُ، وَقَالَ: " مَالُ اللهِ بَعْضُهُ فِي بَعْضٍ " قَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا بِإِسْنَادٍ فِيهِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
میمون بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے خمس میں سے ایک غلام نے چوری کی تو آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ نہ کاٹا اور فرمایا: ”بعض مال نے بعض کو چوری کیا ہے۔“
یہ روایت موصولاً بھی مروی ہے، مگر ایسی سند سے جس میں ضعف ہے۔
یہ روایت موصولاً بھی مروی ہے، مگر ایسی سند سے جس میں ضعف ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ أَبُو ⦗٤٩٠⦘ يَعْلَى، ثنا جُبَارَةُ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدًا، مِنْ رَقِيقِ الْخُمُسِ سَرَقَ مِنَ الْخُمُسِ، فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَقْطَعْهُ وَقَالَ: " مَالُ اللهِ سَرَقَ بَعْضُهُ بَعْضًا ".
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے۔