حدیث نمبر: 17230
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يُقْطَعُ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: حُرًّا كَانَ أَوْ عَبْدًا، وَخَالَفَهُ الثَّوْرِيُّ فِي الْحُرِّ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔“
اور اسے (امام سفیان) ثوری رحمہ اللہ نے اسماعیل بن مسلم سے، انہوں نے امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، مگر یہ کہ انہوں نے کہا: ”خواہ وہ آزاد ہو یا غلام۔“ اور ثوری نے آزاد کے بارے میں ان کی مخالفت کی ہے۔

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: " مَنْ سَرَقَ عَبْدًا صَغِيرًا، أَوْ أَعْجَمِيًّا لَا حِيلَةَ لَهُ، قُطِعَ " وَرُوِي عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَمْ يَرَ عَلَيْهِمُ الْقَطْعَ، قَالَ: هَؤُلَاءِ خَلَّابُونَ قَالَ أَصْحَابُنَا: مَعْنَاهُ فِي الْعَبْدِ إِذَا كَانَ عَاقِلًا، فَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَطَعَ رَجُلًا فِي غُلَامٍ سُرِقَ.
حافظ ثناء اللہ

ابن ابی زناد اپنے والد سے اور اہل مدینہ کے فقہاء سے نقل فرماتے ہیں کہ جو چھوٹے غلام کو یا عجمی کو چوری کرے تو اس کا کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا، اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا؛ اور وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایسے لوگوں کے ہاتھ کاٹنا ناپسند سمجھتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ وہ «خِلَابٌ» ہیں۔
ہمارے اصحاب نے کہا: «خِلَابٌ» کا معنیٰ ایسا غلام ہے جو عاقل ہو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کے غلام نے چوری کی تو اس نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17230
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»