کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا وہ محصن (شادی شدہ کے شرعی حکم میں) نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنِي جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: " مَنْ أَشْرَكَ بِاللهِ فَلَيْسَ بِمُحْصَنٍ " هَكَذَا رَوَاهُ أَصْحَابُ نَافِعٍ، عَنْ نَافِعٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ محصن (پاک دامن) نہیں ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُضَارِبِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَشْرَكَ بِاللهِ فَلَيْسَ بِمُحْصَنٍ " ⦗٣٧٦⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ محصن (پاک دامن) نہیں ہے۔“
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ، قَالَ: لَمْ يَرْفَعْهُ غَيْرُ إِسْحَاقَ، وَيُقَالُ إِنَّهُ رَجَعَ عَنْهُ، وَالصَّوَابُ مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے اسحاق کے سوا کسی نے مرفوع بیان نہیں کیا، اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اس سے رجوع کر لیا تھا، اور درست یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُنِيرٍ الْمَطِيرِيُّ، قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْبَلَدِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي نَافِعٍ، ثنا عَفِيفُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُحْصِنُ أَهْلُ الشِّرْكِ بِاللهِ شَيْئًا "، قَالَ أبو أَحْمَدَ، وَرَوَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ مُعَافَى بْنِ عِمْرَانَ، عَنِ الثَّوْرِيِّ وَهُوَ مُنْكَرٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، قَالَ: وَهِمَ عَفِيفٌ فِي رَفْعِهِ، وَالصَّوَابُ مَوْقُوفٌ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کسی کو کچھ بھی محصن نہیں بناتے۔“
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ثوری کی موسیٰ بن عقبہ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت منکر ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عفیف نے اسے مرفوع بیان کرنے میں وہم کیا ہے، درست یہ ہے کہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول (موقوف) ہے۔
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ثوری کی موسیٰ بن عقبہ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت منکر ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عفیف نے اسے مرفوع بیان کرنے میں وہم کیا ہے، درست یہ ہے کہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول (موقوف) ہے۔
قَالَ عَلِيٌّ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ خُشَيْشٍ، ثنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " مَنْ أَشْرَكَ بِاللهِ فَلَيْسَ بِمُحْصَنٍ ".
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ» ”(یہ حدیث) پہلے گزر چکی ہے۔“
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْكَرَابِيسِيُّ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ، يَهُودِيَّةً أَوْ نَصْرَانِيَّةً، فَسَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ عَنْهَا وَقَالَ: " إِنَّهَا لَا تُحْصِنُكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ کسی یہودیہ یا نصرانی عورت سے شادی کروں تو نبی ﷺ نے مجھے منع کر دیا اور فرمایا: ”وہ تجھے پاک دامن نہیں بنائے گی۔“
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: قَالَ أَبُو ⦗٣٧٧⦘ الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ضَعِيفٌ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ لَمْ يُدْرِكْ كَعْبًا قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَاهُ أَيْضًا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي سَبَأٍ عُتْبَةَ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ كَعْبٍ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوبکر بن ابی مریم ضعیف ہیں، اور علی بن ابی طلحہ نے کعب رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے بقیہ بن ولید نے بھی ابوسبا عتبہ بن تمیم سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے، انہوں نے کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور یہ منقطع ہے۔
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے بقیہ بن ولید نے بھی ابوسبا عتبہ بن تمیم سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے، انہوں نے کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور یہ منقطع ہے۔