السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: من قال: من أشرك بالله فليس بمحصن باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا وہ محصن (شادی شدہ کے شرعی حکم میں) نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 16942
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: قَالَ أَبُو ⦗٣٧٧⦘ الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ضَعِيفٌ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ لَمْ يُدْرِكْ كَعْبًا قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَاهُ أَيْضًا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي سَبَأٍ عُتْبَةَ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ كَعْبٍ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.حافظ ثناء اللہ
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوبکر بن ابی مریم ضعیف ہیں، اور علی بن ابی طلحہ نے کعب رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے بقیہ بن ولید نے بھی ابوسبا عتبہ بن تمیم سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے، انہوں نے کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور یہ منقطع ہے۔