کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حکمران پر لوگوں کو چغل خوری سے روکنے، اور چغل خور کی بات پر عمل ترک کرنے کی ذمہ داری کا بیان۔
حدیث نمبر: 16675
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِيُّ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خُلَيٍّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثَنَا الْكُدَيْمِيُّ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هَاشِمٍ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ زَائِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَلَا لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ "، قَالَ: فَأَتَاهُ مَالٌ فَقَسَمَهُ، قَالَ: فَسَمِعْتُ رَجُلَيْنِ يَقُولَانِ: إِنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ الَّتِي قَسَمَهَا لَا يُرِيدُ اللهَ بِهَا وَلَا الدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَ: فَفَهِمْتُ قَوْلَهُمَا ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ كُنْتَ قُلْتَ: " لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ "، وَإِنِّي سَمِعْتُ فُلَانًا وَفُلَانًا يَقُولَانِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ وَقَالَ: " دَعْنَا مِنْكَ، فَقَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ". لَفْظُ حَدِيثِ الْكُدَيْمِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ الْوَهْبِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ " لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ، وَسَقَطَ مِنْ إِسْنَادِهِ السُّدِّيُّ وَرَوَاهُ أَيْضًا ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی میرے صحابہ کی باتیں مجھے نہ بتائے، مجھے یہ محبوب ہے کہ جب میں تم سے رخصت ہوں تو میرا سینہ سالم ہو۔“ وہ کہتے ہیں: مال آیا، آپ ﷺ نے اس کو تقسیم فرمایا تو میں نے دو آدمیوں کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ یہ تقسیم کرنے والا نہ اللہ کی رضا چاہتا ہے اور نہ آخرت کے گھر کو۔ میں نے ان کی بات سنی اور سمجھی اور نبی ﷺ کے پاس آگیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ فرمایا تھا کہ ”میرے صحابہ کی باتیں مجھے نہ بتانا؛ کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں تم سے رخصت ہوں تو میرا سینہ سالم ہو۔“ میں نے فلاں فلاں سے یہ باتیں سنی ہیں تو آپ ﷺ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اور فرمایا: ”یہاں سے اٹھ جاؤ، موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ تکلیفیں دی گئیں لیکن انہوں نے صبر کیا۔“
حدیث نمبر: 16676
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا قَبِيصَةُ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يَعْرِفُ الْقَرَفَ، وَلَا يُصَدِّقُ أَحَدًا عَلَى أَحَدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ جھوٹ کو نہیں پہچانتے تھے اور نہ کسی کی کسی پر تصدیق کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 16677
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَسْقُفًّا مِنْ أَهْلِ نَجْرَانَ يُكَلِّمُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ احْذَرْ قَاتِلَ الثَّلَاثَةِ، قَالَ عُمَرُ: وَيْلَكَ وَمَا قَاتِلُ الثَّلَاثَةِ؟ قَالَ: الرَّجُلُ يَأْتِي الْإِمَامَ بِالْكَذِبِ، فَيَقْتُلُ الْإِمَامُ ذَلِكَ الرَّجُلَ بِحَدِيثِ هَذَا الْكَذَّابِ، فَيَكُونُ قَدْ قَتَلَ نَفْسَهُ وَصَاحِبَهُ وَإِمَامَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام کہتے ہیں کہ میں نے اہل نجران کے اکابر کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بات کرتے سنا، وہ کہہ رہے تھے: اے امیر المؤمنین! تو تین کے قتل سے بچ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین کے قتل سے کیا مراد ہے؟ کہا: وہ آدمی جو امام کے پاس جھوٹ بولتا ہے تو امام اس آدمی کو قتل کر دیتا ہے کہ جس کے بارے میں اس نے بات کی ہے، تو گویا کہ اس نے اپنے آپ کو، اس آدمی کو اور امام کو قتل کر دیا۔
حدیث نمبر: 16678
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ الْعَبَّاسَ، قَالَ لِابْنِهِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: إِنِّي أَرَى هَذَا الرَّجُلَ قَدْ أَكْرَمَكَ، يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَدْنَى مَجْلِسَكَ، وَأَلْحَقَكَ بِقَوْمٍ لَسْتَ مِثْلَهُمْ، " فَاحْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا: لَا يُجَرِّبَنَّ عَلَيْكَ كَذِبًا، وَلَا تُفْشِ عَلَيْهِ سِرًّا، وَلَا تَغْتَابَنَّ عِنْدَهُ أَحَدًا ". وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تجھے بڑی عزت دی ہے، اپنے قریب بٹھایا ہے اور ایسے لوگوں کے برابر تجھے بٹھایا ہے کہ تو ان جیسا نہیں، تو تین باتیں میری یاد رکھنا: کبھی جھوٹ نہ بولنا، کوئی راز ظاہر نہ کرنا اور ان کے پاس کسی کی غیبت نہ کرنا۔