کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اللہ، اس کی کتاب، اس کے رسول، مسلمانوں کے ائمہ (حکمرانوں) اور عام مسلمانوں کے لیے خیر خواہی کرنے، اور رعایا پر انصاف پرور حکمران کا احترام لازم ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16656
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِحْمَشٍ الْفَقِيهُ،، أَنْبَأَ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثَنَا جَرِيرُ بْنُ مُنِيبٍ، ثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، أَنْبَأَ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ " اللهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلَاثًا، وَيَكْرَهُ لَكُمْ ثَلَاثًا: رَضِيَ لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِه شَيْئًا، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا، وَأَنْ تُنَاصِحُوا مَنْ وَلَّى اللهُ أَمَرَكُمْ، وَيَكْرَهُ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ " قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ: سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ لِمَنْ؟ قَالَ: لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ "، أَوْ قَالَ: " لِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ " أَخْرَجَ مُسْلِمٌ الْحَدِيثَ الْأَوَّلَ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ جَرِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہارے لیے تین چیزیں پسند فرمائی ہیں اور تین چیزیں ناپسند: وہ تم سے اس بات پر راضی ہوا ہے کہ تم اسی کی عبادت کرو، شرک نہ کرو، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقوں میں نہ بٹو، اور امیر کی خیر خواہی کرو؛ اور تمہارے لیے قیل و قال، کثرتِ سوال اور مال کے ضیاع کو ناپسند کیا ہے۔“
عطاء بن یزید لیثی فرماتے ہیں: میں نے سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”دین نصیحت ہے۔“ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی؛ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کس کے لیے؟ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کے رسول کے لیے، ائمہ مسلمین کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے۔“
عطاء بن یزید لیثی فرماتے ہیں: میں نے سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”دین نصیحت ہے۔“ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی؛ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کس کے لیے؟ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کے رسول کے لیے، ائمہ مسلمین کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے۔“
حدیث نمبر: 16657
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ، إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ، إِنَّمَا الدِّين النَّصِيحَةُ "، فَقِيلَ: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَعَامَّتِهِمْ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ والی سابقہ روایت۔
حدیث نمبر: 16658
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ ⦗٢٨٣⦘ الْأَعْرَابِيِّ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ حُمْرَانَ، ثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ أَبِي كِنَانَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ " مِنْ إِجْلَالِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ إِكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ، وَحَامِلَ الْقُرْآنِ غَيْرَ الْغَالِي فِيهِ، وَلَا الْجَافِي عَنْهُ، وَإِكْرَامَ ذِي السُّلْطَانِ الْمُقْسِطِ " وَرَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عَوْفٍ، فَوَقَفَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی عزت و جلال میں سے تین چیزیں ہیں: بزرگ مسلمان کی عزت کرنا، اور قرآن کا حامل جو نہ اس میں غلو کرے اور نہ اس میں جفا، اور عادل بادشاہ کی عزت کرنا۔“
حدیث نمبر: 16659
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ، ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ الْكِنْدِيُّ، ثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَيْهِ ثِيَابٌ رَقِيقٌ مُرَجِّلٌ شَعْرَهُ، قَالَ: فَصَلَّى يَوْمًا ثُمَّ دَخَلَ، قَالَ: وَأَبُو بَكْرَةٍ جَالِسٌ إِلَى جَنْبِ الْمِنْبَرِ، فَقَالَ مِرْدَاسٌ أَبُو بِلَالٍ: أَلَا تَرَوْنَ إِلَى أَمِيرِ النَّاسِ وَسَيِّدِهِمْ يَلْبَسُ الرِّقَاقَ، وَيَتَشَبَّهُ بِالْفُسَّاقِ، فَسَمِعَهُ أَبُو بَكْرَةٍ فَقَالَ لِابْنِهِ الْأُصَيْلِعِ: ادْعُ لِي أَبَا بِلَالٍ، فَدَعَاهُ لَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرَةٍ: أَمَا إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَكَ لِلْأَمِيرِ آنِفًا، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَكْرَمَ سُلْطَانَ اللهِ أَكْرَمَهُ اللهُ، وَمَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللهِ أَهَانَهُ اللهُ ".
حافظ ثناء اللہ
زیاد بن کسیب عدوی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دیتے تھے اور انہوں نے نرم کپڑے پہنے ہوئے تھے اور بالوں کو کنگھی کی ہوئی تھی۔ ایک دن انہوں نے نماز پڑھی، پھر داخل ہوئے، ابوبکرہ رضی اللہ عنہ منبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو مرداس ابوبلال نے کہا: کیا تم امیر کو نہیں دیکھتے جو نرم کپڑے پہنتا ہے اور فساق کی مشابہت کرتا ہے؟ جب یہ بات ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے سنی تو انہوں نے اپنے بیٹے اصلع سے کہا: ابوبلال کو بلاؤ، وہ اسے بلا لایا، تو انہوں نے فرمایا: میں نے تمہارے بارے میں یہ بات سنی ہے جو تم نے امیر کے بارے میں کہی ہے، میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے: ”جو امیر کی عزت کرے گا اللہ اس کی عزت کرے گا اور جو امیر کو رسوا کرے گا اللہ اسے رسوا کرے گا۔“
حدیث نمبر: 16660
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثَنَا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ. وَفِي رِوَايَة ِ الْحُرْفِيِّ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَامِرٍ وَهُوَ الزُّبَيْدِيُّ، ثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ فَضَالَةَ، يَرُدُّهُ إِلَى ابْنِ عَائِذٍ، يَرُدُّهُ ابْنُ عَائِذٍ إِلَى جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيَّ، وَقَعَ عَلَى صَاحِبِ دَارٍ حِينَ فُتِحَتْ، فَأَتَاهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ فَأَغْلَظَ لَهُ الْقَوْلَ، وَمَكَثَ هِشَامٌ لَيَالِيَ، فَأَتَاهُ هِشَامٌ يَعْتَذِرُ إِلَيْهِ وَقَالَ لَهُ: يَا عِيَاضُ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ " أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِي الدُّنْيَا "، فَقَالَ لَهُ عِيَاضٌ: يَا هِشَامُ إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الَّذِي سَمِعْتَ، وَرَأَيْنَا الَّذِي رَأَيْتَ، وَصَحِبْنَا مَنْ صَحِبْتَ، أَوَ لَمْ تَسْمَعْ يَا هِشَامُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ نَصِيحَةٌ لِذِي سُلْطَانٍ فَلَا يُكَلِّمْهُ بِهَا عَلَانِيَةً، وَلْيَأْخُذْ بِيَدِهِ فَلْيَخْلُ بِهِ، فَإِنْ قَبِلَهَا قَبِلَهَا، وَإِلَّا كَانَ قَدْ أَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ وَالَّذِي لَهُ " وَإِنَّكَ يَا هِشَامُ لَأَنْتَ الْجَرِيءُ أَنْ يَجْتَرِئَ عَلَى سُلْطَانِ اللهِ، فَهَلَّا خَشِيتَ أَنْ يَقْتُلَكَ سُلْطَانُ اللهِ؛ فَتَكُونَ قَتِيلَ سُلْطَانِ اللهِ " لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ.
حافظ ثناء اللہ
جبیر بن نفیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عیاض بن غنم اشعری رضی اللہ عنہ دارا کے مالک پر واقع ہو گئے، جب وہ فتح کیا گیا تو ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہما آئے اور انھیں بہت سخت باتیں کہیں۔ ہشام رضی اللہ عنہما چند راتوں کے بعد ان سے معذرت کرنے آگئے تو انہوں نے عیاض رضی اللہ عنہ کو کہا: کیا تو نہیں جانتا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے سخت عذاب اسے ہوگا جو دنیا میں سب سے سخت عذاب لوگوں کو دیتا ہوگا۔“ عیاض رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ہشام! جس سے تو نے سنا ہے، جن کو تو نے دیکھا ہے، جن کے ساتھ تو رہا ہے، ہم ان سے ملے ہیں۔ ہم نے سنا ہے اور ساتھ رہے ہیں۔ اے ہشام! کیا تو نے نبی ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا کہ: ”جس کے پاس امیر کے لیے کوئی نصیحت ہو تو وہ سب لوگوں کے سامنے نہ کہے، ہاتھ پکڑ کر تنہائی میں لے جائے۔ اگر امیر قبول کرلے تو ٹھیک، نہ کرے تو اس نے اپنا حق ادا کردیا۔“ اے ہشام! تو بہت جرأت والا ہے، اللہ کے سلطان پر جرأت کر گیا، تجھے ڈر نہیں کہ اللہ کا سلطان تجھے قتل کرے تو تو اللہ کے سلطان کے ہاتھوں مقتول ہو؟