حدیث نمبر: 16647
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أَنْبَأَ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثَنَا يَحْيَى يَعْنِيَانِ ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَرَجُلٌ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ يَمِينُهُ مَا يُنْفِقُ بِشِمَالِهِ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بُنْدَارٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى. وَسَائِرُ الرُّوَاةِ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، قَالُوا فِيهِ: " لَا تَعْلَمُ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ اپنے عرش کا سایہ دیں گے، اس دن جس دن کوئی سایہ نہیں ہوگا: عادل امام، وہ آدمی جو اللہ کی عبادت میں چلتا ہے، وہ شخص جس کا دل مسجد کے ساتھ لگا رہے اور وہ دو آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہوں، اسی پر ملتے ہوں اور اسی پر جدا ہوتے ہوں اور وہ آدمی جس کو کوئی حسب و نسب والی خوبصورت عورت دعوتِ زنا دے اور وہ کہے: میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ آدمی جو اتنا مخفی صدقہ کرے کہ بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے کہ دائیں نے کیا خرچ کیا ہے اور وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔“
حدیث نمبر: 16648
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثَنَا سَعْدٌ الطَّائِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُدِلَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاوَاتِ، وَيَقُولُ لَهَا الرَّبُّ: وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ " وَتَمَامُ هَذَا الْبَابِ وَمَا قَبْلَهُ فِي كِتَابِ السِّيَرِ، ثُمَّ فِي كِتَابِ أَدَبِ الْقَاضِي.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تین لوگوں کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی: عادل امام، روزے دار یہاں تک کہ وہ افطار کرلے اور مظلوم کی بددعا جو بادلوں پر اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میری عزت کی قسم! میں ضرور تیری مدد کروں گا چاہے کچھ عرصہ کے بعد۔“
حدیث نمبر: 16649
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ عَفَّانُ بْنُ جُبَيْرٍ الطَّائِيُّ، عَنْ ⦗٢٨١⦘ رَجُلٍ، قَدْ سَمَّاهُ لِي، عَنْ عِكْرِمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا سَعْدٌ أَبُو غَيْلَانَ، ثَنَا عَفَّانُ بْنُ جُبَيْرٍ الطَّائِيُّ، عَنْ أَبِي جَرِيرٍ أَوْ حَرِيزٍ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَوْمٌ مِنْ إِمَامٍ عَادِلٍ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّينَ سَنَةً، وَحَّدٌ يُقَامُ فِي الْأَرْضِ بِحَقِّهِ أَزْكَى فِيهَا مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عادل امام کا ایک دن ٦٠ سال کی عبادت سے افضل ہے اور زمین میں ایک حد کا نفاذ ٤٠ دن کی بارش سے بہتر ہے۔“
حدیث نمبر: 16650
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا مَرَرْتَ بِبَلْدَةٍ لَيْسَ فِيهَا سُلْطَانٌ فَلَا تَدْخُلْهَا، إِنَّمَا السُّلْطَانُ ظِلُّ اللهِ فِي الْأَرْضِ، وَرُمْحُهُ فِي الْأَرْضِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تو ایسی زمین میں جائے جس میں سلطان نہ ہو تو وہاں داخل نہ ہونا؛ کیونکہ سلطان اللہ کا سایہ اور زمین میں محافظ ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 16651
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ مَوْتِهِ: " اعْلَمُوا أَنَّ النَّاسَ لَنْ يَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا اسْتَقَامَتْ لَهُمْ وُلَاتُهُمْ وَهُدَاتُهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی موت کے وقت ارشاد فرمایا تھا کہ لوگ اس وقت تک خیر پر رہتے ہیں جب تک ان کا بہترین ان پر والی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 16652
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ خَالِهِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، قَالَ: " إِنَّمَا زَمَانُكُمْ سُلْطَانُكُمْ، فَإِذَا صَلَحَ سُلْطَانُكُمْ صَلَحَ زَمَانُكُمْ، وَإِذَا فَسَدَ سُلْطَانُكُمْ فَسَدَ زَمَانُكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن مخیمرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ تمہارا وقت تمہارا بادشاہ ہے، جب بادشاہ ٹھیک ہے تو وقت بھی ٹھیک ہے اور اگر بادشاہ خراب ہے تو وقت بھی خراب ہے۔
حدیث نمبر: 16653
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، أَنْبَأَ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يَقُولُ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ تَقَعْ هَذِهِ الْأَهْوَاءُ فِي السُّلْطَانِ، هُمُ الَّذِينَ يَذُبُّونَ عَنِ النَّاسِ، فَإِذَا وَقَعَتْ فِيهِمْ فَمَنْ يَذُبُّ عَنْهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ ہمیشہ بھلائی پر رہیں گے جب تک کہ ان کے بادشاہوں میں وہ خواہشات نہ آ جائیں جن سے وہ لوگوں کو روکتے ہیں۔ جب ان میں وہ آ گئیں تو ان سے کون روکے گا؟
حدیث نمبر: 16654
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ اللَّيْثِيُّ، قَالَ: " قَدِْمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ تَيْمَاءَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ ابْنَ هُرْمُزَ ظَلَمَنِي وَاعْتَدَى عَلَيَّ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ شَيْئًا، ثُمَّ عَادَ لَهُ فِي الشِّكَايَةِ لِابْنِ هُرْمُزَ، فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ شَيْئًا، فَقَالَ، وَغَضِبَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّا نَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ الَّتِي أَنْزَلَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مُوسَى بْنِ ⦗٢٨٢⦘ عِمْرَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَيْسَ عَلَى الْإِمَامِ مِنْ جَوْرِ الْعَامِلِ وَظُلْمِهِ شَيْءٌ مَا لَمْ يَبْلُغْهُ ذَلِكَ مِنْ ظُلْمِهِ وَجَوْرِهِ، فَإِذَا بَلَغَهُ فَأَقَرَّهُ شَرَكَهُ فِي جَوْرِهِ وَظُلْمِهِ، فَلَمَّا ذَكَرَ ذَلِكَ نَزَعَ ابْنَ هُرْمُزَ عَنْ عَمَلِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عامر بن واثلہ لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اہل تیماء کا ایک آدمی عبدالملک بن مروان کے پاس آیا جو اہل کتاب سے تھا، کہنے لگا: اے امیر المؤمنین! ابن ہرمز نے مجھ پر ظلم اور زیادتی کی ہے۔ عبدالملک نے اس سے اعراض کیا، پھر اس نے شکایت کی تو پھر اعراض کیا، تو اس نے پھر غصے میں کہا: اے امیر المؤمنین! تورات میں لکھا ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی کہ عامل کا ظلم و زیادتی کرنا امیر پر اس کا گناہ نہیں جب تک امیر اس سے بے خبر رہے، لیکن جب پتہ چل جائے تو وہ گناہ گار ہے، تو عبدالملک نے یہ سن کر ابن ہرمز کو معزول کر دیا۔
حدیث نمبر: 16655
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَرَأَيْتُمْ إِنِ اسْتَعْمَلْتُ عَلَيْكُمْ خَيْرَ مَنْ أَعْلَمُ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ بِالْعَدْلِ، أَقَضَيْتُ مَا عَلَيَّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: لَا، حَتَّى أَنْظُرَ فِي عَمَلِهِ، أَعَمِلَ بِمَا أَمَرْتُهُ أَوْ لَا ".
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں کسی کو عامل بناؤں اور اسے عدل کا حکم دوں، کیا میں نے حق ادا کر دیا؟ کہا گیا: جی ہاں۔ فرمایا: نہیں، اس وقت تک نہیں کہ جب تک میں اس کے کام کو نہ دیکھ لوں کہ اس نے میرے حکم پر عمل کیا بھی ہے یا نہیں۔