حدیث نمبر: 16531
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَأَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: ثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ، مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ، وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”لوگ قریش کے تابع ہیں، ان کے مسلمان تابع ہیں ان کے مسلمانوں کے اور کفار کفار کے۔“ [صحیح]
حدیث نمبر: 16532
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَىَّ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ "، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ رَوْحٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کا فرمان نقل فرماتے ہیں کہ ”لوگ خیر اور شر دونوں میں قریش کے تابع ہیں۔“
حدیث نمبر: 16533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا الْأَسْفَاطِيُّ، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا كَانَ فِي النَّاسِ اثْنَيْنِ " وَفِي رِوَايَة الدَّارِمِيِّ: " مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”امارت ہمیشہ قریش میں رہے گی جب تک دو آدمی بھی باقی ہیں۔“
حدیث نمبر: 16534
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ⦗٢٤٤⦘ ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ بْنِ خَلِيٍّ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، ح وَأَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَشِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثَنَا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَلَغَ مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَيَكُونُ مَلِكٌ مِنْ قَحْطَانَ، فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ فَقَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَحَادِيثَ لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ وَلَا تُؤْثَرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُولَئِك جُهَّالُكُمْ، إِيَّاكُمْ وَالْأَمَانِيَّ الَّتِي تُضِلُّ أَهْلَهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ، لَا يُعَادِيهِمْ فِيهِ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللهُ عَلَى وَجْهِهِ، مَا أَقَامُوا الدِّينَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ..
حافظ ثناء اللہ
محمد بن جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی اور وہ قریش کے وفد کے پاس تھے کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عنقریب بادشاہ قحطان سے ہوگا تو معاویہ رضی اللہ عنہ شدید غصہ ہوئے اور کھڑے ہوئے، اللہ کی ثناء بیان کی۔ پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثناء کے بعد!“ مجھے پتا چلا ہے کہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں ہیں اور نہ نبی ﷺ نے فرمائی ہیں۔ اپنے آپ کو ایسی خواہشات سے بچاؤ جو تمہیں گمراہ کر دیں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”امارت ہمیشہ قریش میں رہے گی جب تک وہ دین پر رہیں گے اور جو ان سے دشمنی کرے گا اللہ اسے رسوا کر دیں گے۔“
حدیث نمبر: 16535
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّهُ كَانَ مِنْ خَبَرِنَا حِينَ تَوَفَّى اللهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، وَخَالَفَ عَنَّا عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَمَن مَعَهُمَا، وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا أَبَا بَكْرٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى إِخْوَانِنَا هَؤُلَاءِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَانْطَلَقْنَا نُرِيدُهُمْ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ لَقِيَنَا مِنْهُمْ رَجُلَانِ صَالِحَانِ، فَذَكَرَا مَا تَمَالَأَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ، فَقَالَا: أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ؟ فَقُلْنَا: نُرِيدُ إِخْوَانَنَا هَؤُلَاءِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَا: لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَقْرَبُوهُمُ، اقْضُوا أَمَرَكُمْ، فقُلْتُ: وَاللهِ لَنَأْتِيَنَّهُمْ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَاهُمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، فَإِذَا رَجُلٌ مُزَمَّلٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقُلْتُ: مَا لَهُ؟ قَالُوا: يُوعَكُ. فَلَمَّا جَلَسْنَا قَلِيلًا تَشَهَّدَ خَطِيبُهُمْ، فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ وَكَتِيبَةُ الْإِسْلَامِ، وَأَنْتُمْ مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ رَهْطٌ مِنَّا، وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ قَوْمِكُمْ فَإِذَا هُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْتَزِلُونَا مِنْ أَصْلِنَا، وَأَن يَحْضُنُونَا مِنَ الْأَمْرِ. قَالَ: فَلَمَّا سَكَتَ أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، وَكُنْتُ زَوَّرْتُ مَقَالَةً أَعْجَبَتْنِي أُرِيدُ أَنْ أُقَدِّمَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكُنْتُ أُدَارِئُ عَنْهُ بَعْضَ الْحَدِّ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عَلَى رِسْلِكَ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُغْضِبَهُ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَانَ هُوَ أَحْلَمَ ⦗٢٤٥⦘ مِنِّي وَأَوْقَرَ، وَاللهِ مَا تَرَكَ مِنْ كَلِمَةٍ أَعْجَبَتْنِي فِي تَزْوِيرِي إِلَّا قَالَ فِي بَدِيهَتِهِ مِثْلَهَا أَوْ أَفْضَلَ مِنْهَا حَتَّى سَكَتَ، قَالَ: مَا ذَكَرْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَأَنْتُمْ لَهُ أَهْلٌ، وَلَنْ نَعْرِفَ هَذَا الْأَمْرَ إِلَّا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ، هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا وَقَدْرًا، وَقَدْ رَضِيتُ لَكُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ فَبَايِعُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ، وَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَنَا، فَلَمْ أَكْرَهْ مِمَّا قَالَ غَيْرَهَا، كَانَ وَاللهِ أَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي لَا يُقَرِّبُنِي ذَلِكَ مِنْ إِثْمٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَأَمَّرَ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، اللهُمَّ إِلَّا أَنْ تُسَوِّلَ لِي نَفْسِي عِنْدَ الْمَوْتِ شَيْئًا لَا أَجِدُهُ الْآنَ، فَقَالَ قَائِلُ الْأَنْصَارِ: أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَكَّكُ، وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَّبُ، مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ. وَكَثُرَ اللَّغَطُ وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ حَتَّى فَرِقْتُ مِنْ أَنْ يَقَعَ اخْتِلَافٌ، فَقُلْتُ: ابْسُطْ يَدَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَبَسَطَ يَدَهُ، فَبَايَعْتُهُ وَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ، ثُمَّ بَايَعَتْهُ الْأَنْصَارُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب نبی ﷺ وفات پا گئے تو ہمیں پتہ چلا کہ انصار (ہماری) مخالفت کر رہے ہیں اور وہ سب سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہیں، اور ہماری طرف سے سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما اور جو ان کے ساتھ تھے، انہوں نے بھی مخالفت کی۔ مہاجرین جمع ہو گئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے۔ میں نے کہا: اے ابوبکر! ہمارے ساتھ ان انصاری بھائیوں کے پاس چلیں۔ ہم ان کی طرف روانہ ہوئے، جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ان میں سے دو نیک آدمی ہمیں ملے اور پوچھا: اے مہاجرین! کہاں جا رہے ہو؟ ہم نے کہا: انصاری بھائیوں کے پاس۔ انہوں نے کہا: ان کے پاس نہ جاؤ، اپنے معاملے کا فیصلہ (خود ہی) کر لو۔ میں نے کہا: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ ہم ضرور جائیں گے۔ ہم گئے اور سقیفہ بنی ساعدہ میں پہنچے تو وہاں ایک شخص کو چادر اوڑھائی جا رہی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے پوچھا: اسے کیا ہوا ہے؟ بتایا گیا: اسے سردار بنایا جا رہا ہے۔ ہم تھوڑی ہی دیر ٹھہرے تھے کہ ان کا ایک خطیب آیا، اس نے اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کی پھر کہا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد!“ ہم اللہ کے (دین کے) مددگار اور اسلام کے محافظ ہیں اور تم مہاجرین کی ایک جماعت ہم میں سے ہو، تمہاری قوم کا نظام ہم نے چلایا، وہ ہمیں رسوا کرنا اور ہم سے امارت چھیننا چاہتے ہیں۔ جب وہ خاموش ہو گیا تو میں نے ارادہ کیا کہ میں کچھ بات کروں لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ جب میں نے بات کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رک جاؤ۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی، وہ مجھ سے زیادہ قادرِ کلام آدمی تھے۔ انہوں نے اپنے بے مثال انداز میں ہر وہ بات کہی جو میں کہنا چاہتا تھا۔ پھر فرمایا: تم نے جو بھی بھلائیاں اپنے متعلق بیان کی ہیں وہ تم میں موجود ہیں، لیکن امارت کے حق دار صرف قریش ہیں؛ کیونکہ یہ نسب اور گھرانے کے لحاظ سے تمام عرب میں اوسط (بہترین) ہیں، اور میں (تمہارے سامنے) یہ دو آدمی پیش کرتا ہوں تم جس کے ہاتھ پر چاہو بیعت کر لو، پھر انہوں نے میرا اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ میں نے (اپنے دل میں) کہا: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ اگر اس وقت مجھے قتل کر دیا جاتا تو یہ مجھ پر اس سے زیادہ آسان تھا کہ میں ایسی قوم کا امیر بنایا جاؤں جس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہوں۔ ایک انصاری کہنے لگا: مجھے تمہاری رائے پسند ہے اور میں تمہیں بکھرنے سے بچاتا ہوں؛ اے قریشیو! ایک امیر تمہارا ہو اور ایک امیر ہمارا ہو۔ (یہ سن کر) لوگوں میں شور برپا ہو گیا اور آوازیں بلند ہونے لگیں تو میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اپنا ہاتھ بڑھائیں، انہوں نے ہاتھ بڑھایا تو میں نے ان کی بیعت کر لی، پھر مہاجرین نے بیعت کی اور اس کے بعد انصار نے بیعت کر لی۔
حدیث نمبر: 16536
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِيُّ ابْنُ الْحَمَّامِيِّ، رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ، وَأَنَا أَسْمَعُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالسُّنْحِ، فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَاللهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ مَا كَانَ يَقَعُ فِي نَفْسِي إِلَّا ذَاكَ، وَلَيَبْعَثَنَّهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقْطَعَنَّ أَيْدِيَ رِجَالٍ وَأَرْجُلَهُمْ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَشَفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَهُ وَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي طِبْتَ حَيًّا وَمَيِّتًا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُذِيقُكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَوْتَتَيْنِ أَبَدًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: أَيُّهَا الْحَالِفُ عَلَى رِسْلِكَ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ جَلَسَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَن كَانَ يَعْبُدُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ اللهَ حَيُّ لَا يَمُوتُ، وَقَالَ: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} [الزمر: ٣٠]، وَقَالَ: {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ، أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ، وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ} [آل عمران: ١٤٤] الْآيَةَ كُلَّهَا، فَنَشَجَ النَّاسُ يَبْكُونَ، وَاجْتَمَعَتِ الْأَنْصَارُ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ فَقَالُوا: مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَذَهَبَ إِلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَذَهَبَ عُمَرُ ⦗٢٤٦⦘ يَتَكَلَّمُ فَأَسْكَتَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: وَاللهِ مَا أَرَدْتُ بِذَاكَ إِلَّا أَنِّي قَدْ هَيَّأْتُ كَلَامًا قَدْ أَعْجَبَنِي خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْلُغَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَتَكَلَّمَ وَأَبْلَغَ فَقَالَ فِي كَلَامِهِ: نَحْنُ الْأُمَرَاءُ، وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ، قَالَ الْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ: لَا وَاللهِ لَا نَفْعَلُ أَبَدًا، مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا، وَلَكِنَّا الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ، هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ دَارًا وَأَعْرَبُهُمْ أَحْسَابًا، فَبَايِعُوا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَوْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ عُمَرُ: بَلْ نُبَايِعُكَ، أَنْتَ خَيْرُنَا وَسَيِّدُنَا وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذَ عُمَرُ بِيَدِهِ فَبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ النَّاسُ، فَقَالَ قَائِلٌ: قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: قَتَلَهُ اللهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺ فوت ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بہت پریشان تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ”واللہ! نبی ﷺ فوت نہیں ہوئے۔ جو بھی یہ کہے گا کہ نبی ﷺ فوت ہو چکے ہیں میں اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ دوں گا۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور نبی ﷺ کو بوسہ دیا اور فرمایا: ”میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ کا زندہ رہنا اور فوت ہونا بابرکت ہے اور اللہ کی قسم! آپ پر دو موتیں اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔“ پھر آئے اور فرمایا: ”اے عمر! بیٹھ جا۔“ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بات شروع کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا، بے شک محمد ﷺ فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہے کبھی اسے موت نہیں آئے گی“ اور فرمایا: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ﴾ [سورة الزمر: 30] اور فرمایا: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ﴾ [سورة آل عمران: 144] لوگوں نے رونا شروع کر دیا۔ پھر انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے لگے: ایک امیر ہمارا اور ایک تمہارا ہو گا، تو سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہم ان کے پاس گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بات کرنے کا ارادہ کیا لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چپ کرا دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بات کی اور بہت بلیغ بات کی، فرمایا: ”امیر ہمارا ہے وزیر تمہارا۔“ سیدنا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: واللہ! ایسا نہیں ہو سکتا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، امراء ہم میں سے اور وزراء تم میں سے؛ کیونکہ قریش اوسط العرب ہیں اس لیے عمر یا ابوعبیدہ میں جس کی چاہو بیعت کر لو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ ہم میں سب سے بہتر، ہمارے سید اور رسول اللہ ﷺ کے محبوب ہیں“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے ہاتھ کو پکڑا اور آپ کی بیعت کر لی اور باقی تمام لوگوں نے بھی بیعت کر لی۔ ایک شخص کہنے لگا: سعد بن عبادہ کو تم نے قتل کر دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اسے اللہ نے قتل کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 16537
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ فِي خُطْبَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَإِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ مَا أَطَاعُوا اللهَ وَاسْتَقَامُوا عَلَى أَمْرِهِ، قَدْ بَلَغَكُمْ ذَلِكَ أَوْ سَمِعْتُمُوهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ، وَاصْبِرُوا إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِينَ} [الأنفال: ٤٦]، فَنَحْنُ الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ، إِخْوَانُنَا فِي الدِّينِ وَأَنْصَارُنَا عَلَيْهِ. وَفِي خُطْبَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَهُ: نَشَدْتُكُمْ بِاللهِ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مَنْ سَمِعَهُ مِنْكُمْ، وَهُوَ يَقُولُ: " الْوُلَاةُ مِنْ قُرَيْشٍ مَا أَطَاعُوا اللهَ وَاسْتَقَامُوا عَلَى أَمْرِهِ "؟ فَقَالَ مَنْ قَالَ مِنَ الْأَنْصَارِ: بَلَى، الْآنَ ذَكَرْنَا، قَالَ: فَإِنَّا لَا نَطْلُبُ هَذَا الْأَمْرَ إِلَّا لِهَذَا، فَلَا تَسْتَهْوِيَنَّكُمُ الْأَهْوَاءُ، فَلَيْسَ بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ، فَأَنَّي تُصْرَفُونَ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن اسحاق بن یسار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خطبہ نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا تھا: یہ امر قریش کے لیے ہے اور ان کے امر پر انھیں قائم رکھو اور تمہیں یہ بات رسول اللہ ﷺ سے پہنچی ہے یا تم نے سنی ہے، ﴿وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ [سورة الأنفال: 46] ”اس میں تنازع نہ کرو، اللہ تمہاری ہوا لے جائے گا اور تم پھسل جاؤ گے۔ صبر کرو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔ ہم امراء ہیں تم وزراء، ہمارے دینی بھائی ہو اور ہمارے مددگار ہو۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں فرمایا: اے انصاریو! کیا تم نے نبی ﷺ سے یہ نہیں سنا کہ ”امیر قریش سے ہی ہوں گے، جب تک وہ دین پر رہیں“؟ تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا: اب ہمیں یاد آ گیا، ہم اسے طلب نہیں کرتے، امراء تمہارے ہی ہوں گے۔
حدیث نمبر: 16538
حَدَّثَنَا أبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا وُهَيْبٌ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ: يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْكُمْ قَرَنَ مَعَهُ رَجُلًا مِنَّا، فَنَرَى أَنْ يَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ رَجُلَانِ، أَحَدُهُمَا مِنْكُمْ وَالْآخَرُ مِنَّا، قَالَ: فَتَتَابَعَتْ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ عَلَى ذَلِكَ، فَقَامَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَإِنَّ الْإِمَامَ يَكُونُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَنَحْنُ أَنْصَارُهُ كَمَا كُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، وَثَبَّتَ قَائِلَكُمْ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا لَوْ فَعَلْتُمْ غَيْرَ ذَلِكَ لَمَا صَالَحْنَاكُمْ، ثُمَّ أَخَذَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ بِيَدِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: هَذَا ⦗٢٤٧⦘ صَاحِبُكُمْ فَبَايَعُوهُ، ثُمَّ انْطَلَقُوا، فَلَمَّا قَعَدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَلَمْ يَرَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَامَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَتَوْا بِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَتَنَهُ، أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ: لَا تَثْرِيبَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ فبايعه، ثُمَّ لَمْ يَرَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلَ عَنْهُ، حَتَّى جَاءُوا بِهِ، فَقَالَ: ابْنَ عَمَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَوَارِيَّهُ، أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ: لَا تَثْرِيبَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهُ فَبَايَعَاهُ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ فوت ہوئے تو انصار کے خطباء کھڑے ہوئے۔ ان میں سے ایک کہنے لگا: اے مہاجرین کی جماعت! جب بھی نبی ﷺ نے کوئی عامل بنایا تو اس کے ساتھ ایک آدمی ہم میں سے بھی مقرر فرمایا، لہٰذا اب امیر ایک ہم میں سے ایک تم میں سے ہوگا۔ سارے خطباء نے اس کی تائید کی تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور فرمایا: نبی ﷺ خود مہاجرین میں سے تھے اور امام بھی مہاجرین سے ہوگا اور ہم سب جس طرح رسول اللہ ﷺ کی مدد کیا کرتے تھے اس کی بھی مدد کریں گے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: تمہیں اللہ بہترین بدلہ دے اے انصاریو! تمہارے خطیبوں کو ثابت قدم رکھے، اگر تم دوسرا معاملہ ہمارے ساتھ کرو تو ہم صلح کرلیں اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: اس کی بیعت کرلو، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر آکر بیٹھ گئے، دیکھا قوم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہیں ہیں۔ پوچھا: وہ کہاں ہیں؟ انہیں بلایا گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے چچا کے بیٹے اور آپ کے داماد ہیں، میرا ارادہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی باگ دوڑ تمہیں تھماؤں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی بیعت کرلی۔ پھر سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ نظر نہ آئے۔ پوچھا تو ان کو بلایا گیا اور انہوں نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ والی بات کہی اور دونوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی۔
حدیث نمبر: 16539
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَافِظُ الْإِسْفِرَائِينِيُّ، ثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَا: ثَنَا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، ثَنَا وُهَيْبٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، يَقُولُ: جَاءَنِي مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فَسَأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَكَتَبْتُهُ لَهُ فِي رُقْعَةٍ وَقَرَأْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ يَسْوِي بَدَنَةً، فَقُلْتُ: يَسْوِي بَدَنَةً؟ بَلْ هُوَ يَسْوِي بَدْرَةً.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت، «تَقَدَّمَ قَبْلَهُ»۔
حدیث نمبر: 16540
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثَنَا الْفَيْضُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ائمہ قریش سے ہی ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 16541
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، ثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَهْلٍ، عَنْ بُكَيْرٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَيْتٍ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، قَالَ: فَجَعَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يُوَسِّعُ لَهُ يَرْجُو أَنْ يَجْلِسَ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَامَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ فَقَالَ: " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ، وَلِي عَلَيْكُمْ حَقٌّ عَظِيمٌ، وَلَهُمْ مِثْلُهُم مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا: إِذَا اسْتُرْحِمُوا وَرَحَمُوا، وَحَكَمُوا فَعَدَلُوا، وَعَاهَدُوا فَوَفَوْا. فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَهْلٍ، يُكَنَّى أَبَا أَسَدٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ عَنْ سَهْلٍ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي الْأَسَدِ، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ عَلِيٍّ أَبِي الْأَسَدِ، وَهُوَ وَاهِمٌ فِيهِ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَاهُ الْأَعْمَشُ وَمِسْعَرٌ، وَهُوَ سَهْلٌ الْقَرَارِيّ /٦٣ ُ مِنْ بَنِي قَرَارٍ يُكَنَّى أَبَا أَسَدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے؛ ہم ایک گھر میں مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ہم میں سے ہر ایک شخص اپنے پہلو میں جگہ بنانے لگا تاکہ نبی ﷺ اس کے ساتھ بیٹھیں، لیکن آپ ﷺ دروازے پر ہی کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”ائمہ قریش ہی سے ہوں گے، جس طرح میرا تم پر بڑا حق ہے اسی طرح ان کا بھی ہے۔“ آپ ﷺ نے یہ تین مرتبہ فرمایا: ”جب لوگ ان سے رحم طلب کریں تو وہ رحم کریں، فیصلے عدل کے ساتھ کریں، عہد کو پورا کریں اور جو ایسا نہ کرے اس پر اللہ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔“
حدیث نمبر: 16542
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ إِذَا مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا، وَإِذَا عَاهَدُوا وَفَوْا، وَإِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ائمہ قریش سے ہیں۔ جب وہ فیصلہ کریں تو عدل کریں اور رحم طلب کیا جائے تو رحم کریں اور عہد کریں تو اس کو پورا کریں۔“
حدیث نمبر: 16543
وَرَوَاهُ أَيْضًا مُوسَى الْجُهَنِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ مُوسَى الْجُهَنِيُّ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت۔
حدیث نمبر: 16544
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ الْحَافِظُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، ثَنَا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ يَقُولُهَا ثَلَاثًا أَلَا وَلِي عَلَيْكُمْ حَقٌّ، وَلَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقٌّ مَا عَمِلُوا فِيكُمْ بِثَلَاثٍ: مَا رَحِمُوا إِذَا اسْتُرْحِمُوا، وَمَا أَقْسَطُوا إِذَا قَسَمُوا، وَمَا عَدَلُوا إِذَا حَكَمُوا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: ”ائمہ قریش سے ہیں۔ جس طرح میرا تم پر حق ہے اسی طرح ان کا بھی ہے، جب تک وہ تین کام کرتے رہیں: رحم کریں، انصاف اور فیصلوں میں عدل۔“ [حسن]
حدیث نمبر: 16545
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ بَيَانٍ، ثَنَا عَارِمٌ، ثَنَا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ، الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ، وَلِي عَلَيْهِمْ حَقٌّ، وَلَكُمْ عَلَيْهِمْ حَقٌّ مَا عَمِلُوا فِيكُمْ بِثَلَاثٍ: مَا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا، وَأَقْسَطُوا إِذَا قَسَمُوا، وَعَدَلُوا إِذَا حَكَمُوا ".
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت۔
حدیث نمبر: 16546
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِقُرَيْشٍ: أَنْتُمْ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ مَا كُنْتُمْ مَعَ الْحَقِّ، إِلَّا أَنْ تَعْدِلُوا عَنْهُ فَتُلْحَوْنَ كَمَا تُلْحَى هَذِهِ الْجَرِيدَةُ " يُشِيرُ إِلَى جَرِيدَةٍ بِيَدِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے قریش کے لیے فرمایا: ”تم لوگوں میں امارت کے زیادہ حق دار ہو جب تک تم حق پر رہو گے، انصاف کرو گے اور اس جریدے کی طرح آپس میں ملے رہو گے۔“ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ میں جریدے کی طرف اشارہ فرمایا۔