أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَأَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: ثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ، مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ، وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”لوگ اس معاملے میں قریش کے تابع ہیں، ان کے مسلمان تابع ہیں ان کے مسلمانوں کے اور کفار کفار کے۔“ [صحیح]
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَىَّ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ "، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ رَوْحٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کا فرمان نقل فرماتے ہیں کہ ”لوگ خیر اور شر دونوں میں قریش کے تابع ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا الْأَسْفَاطِيُّ، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا كَانَ فِي النَّاسِ اثْنَيْنِ " وَفِي رِوَايَة الدَّارِمِيِّ: " مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”امارت ہمیشہ قریش میں رہے گی جب تک لوگوں میں دو آدمی بھی باقی ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ⦗٢٤٤⦘ ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ بْنِ خَلِيٍّ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، ح وَأَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَشِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثَنَا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَلَغَ مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَيَكُونُ مَلِكٌ مِنْ قَحْطَانَ، فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ فَقَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَحَادِيثَ لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ وَلَا تُؤْثَرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُولَئِك جُهَّالُكُمْ، إِيَّاكُمْ وَالْأَمَانِيَّ الَّتِي تُضِلُّ أَهْلَهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ، لَا يُعَادِيهِمْ فِيهِ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللهُ عَلَى وَجْهِهِ، مَا أَقَامُوا الدِّينَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ..
حافظ ثناء اللہ
محمد بن جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی اور وہ قریش کے وفد کے پاس تھے کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عنقریب بادشاہ قحطان سے ہوگا تو معاویہ رضی اللہ عنہ شدید غصہ ہوئے اور کھڑے ہوئے، اللہ کی ثناء بیان کی۔ پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثناء کے بعد!“ مجھے پتا چلا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں جو نہ کتاب اللہ میں ہیں اور نہ نبی ﷺ نے فرمائی ہیں۔ یہ تم میں سے جاہل لوگ ہیں۔ اپنے آپ کو ایسی خواہشات سے بچاؤ جو تمہیں گمراہ کر دیں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”امارت ہمیشہ قریش میں رہے گی جب تک وہ دین پر رہیں گے اور جو ان سے دشمنی کرے گا اللہ اسے منہ کے بل گرا دے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّهُ كَانَ مِنْ خَبَرِنَا حِينَ تَوَفَّى اللهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، وَخَالَفَ عَنَّا عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَمَن مَعَهُمَا، وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا أَبَا بَكْرٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى إِخْوَانِنَا هَؤُلَاءِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَانْطَلَقْنَا نُرِيدُهُمْ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ لَقِيَنَا مِنْهُمْ رَجُلَانِ صَالِحَانِ، فَذَكَرَا مَا تَمَالَأَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ، فَقَالَا: أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ؟ فَقُلْنَا: نُرِيدُ إِخْوَانَنَا هَؤُلَاءِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَا: لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَقْرَبُوهُمُ، اقْضُوا أَمَرَكُمْ، فقُلْتُ: وَاللهِ لَنَأْتِيَنَّهُمْ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَاهُمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، فَإِذَا رَجُلٌ مُزَمَّلٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقُلْتُ: مَا لَهُ؟ قَالُوا: يُوعَكُ. فَلَمَّا جَلَسْنَا قَلِيلًا تَشَهَّدَ خَطِيبُهُمْ، فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ وَكَتِيبَةُ الْإِسْلَامِ، وَأَنْتُمْ مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ رَهْطٌ مِنَّا، وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ قَوْمِكُمْ فَإِذَا هُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْتَزِلُونَا مِنْ أَصْلِنَا، وَأَن يَحْضُنُونَا مِنَ الْأَمْرِ. قَالَ: فَلَمَّا سَكَتَ أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، وَكُنْتُ زَوَّرْتُ مَقَالَةً أَعْجَبَتْنِي أُرِيدُ أَنْ أُقَدِّمَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكُنْتُ أُدَارِئُ عَنْهُ بَعْضَ الْحَدِّ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عَلَى رِسْلِكَ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُغْضِبَهُ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَانَ هُوَ أَحْلَمَ ⦗٢٤٥⦘ مِنِّي وَأَوْقَرَ، وَاللهِ مَا تَرَكَ مِنْ كَلِمَةٍ أَعْجَبَتْنِي فِي تَزْوِيرِي إِلَّا قَالَ فِي بَدِيهَتِهِ مِثْلَهَا أَوْ أَفْضَلَ مِنْهَا حَتَّى سَكَتَ، قَالَ: مَا ذَكَرْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَأَنْتُمْ لَهُ أَهْلٌ، وَلَنْ نَعْرِفَ هَذَا الْأَمْرَ إِلَّا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ، هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا وَقَدْرًا، وَقَدْ رَضِيتُ لَكُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ فَبَايِعُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ، وَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَنَا، فَلَمْ أَكْرَهْ مِمَّا قَالَ غَيْرَهَا، كَانَ وَاللهِ أَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي لَا يُقَرِّبُنِي ذَلِكَ مِنْ إِثْمٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَأَمَّرَ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، اللهُمَّ إِلَّا أَنْ تُسَوِّلَ لِي نَفْسِي عِنْدَ الْمَوْتِ شَيْئًا لَا أَجِدُهُ الْآنَ، فَقَالَ قَائِلُ الْأَنْصَارِ: أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَكَّكُ، وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَّبُ، مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ. وَكَثُرَ اللَّغَطُ وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ حَتَّى فَرِقْتُ مِنْ أَنْ يَقَعَ اخْتِلَافٌ، فَقُلْتُ: ابْسُطْ يَدَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَبَسَطَ يَدَهُ، فَبَايَعْتُهُ وَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ، ثُمَّ بَايَعَتْهُ الْأَنْصَارُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب نبی ﷺ وفات پا گئے تو ہمیں پتہ چلا کہ انصار (ہماری) مخالفت کر رہے ہیں اور وہ سب سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہیں، اور سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما اور جو ان کے ساتھ تھے، وہ بھی ہم سے الگ رہے۔ مہاجرین جمع ہو گئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے۔ میں نے کہا: اے ابوبکر! ہمارے ساتھ ان انصاری بھائیوں کے پاس چلیں۔ ہم ان کی طرف روانہ ہوئے، جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ان میں سے دو نیک آدمی ہمیں ملے، انہوں نے وہ بات بتائی جس پر لوگ متفق ہو گئے تھے اور پوچھا: اے مہاجرین! کہاں جا رہے ہو؟ ہم نے کہا: اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس۔ انہوں نے کہا: ان کے پاس نہ جاؤ، اپنے معاملے کا فیصلہ (خود ہی) کر لو۔ میں نے کہا: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ ہم ضرور ان کے پاس جائیں گے۔ ہم گئے اور سقیفہ بنی ساعدہ میں ان کے پاس پہنچے تو وہاں ان کے درمیان ایک شخص چادر میں لپٹا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے پوچھا: انہیں کیا ہوا ہے؟ بتایا گیا: انہیں بخار ہے۔ ہم تھوڑی ہی دیر بیٹھے تھے کہ ان کے خطیب نے کلمہ شہادت پڑھا، اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کی جیسی اس کی شان کے لائق ہے، پھر کہا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد!“ ہم اللہ کے (دین کے) مددگار اور اسلام کا لشکر ہیں اور تم اے مہاجرین! ہم میں سے ایک چھوٹی سی جماعت ہو، اور تمہاری قوم کے کچھ لوگ آہستہ آہستہ آ گھسے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں ہماری جڑ سے کاٹ دیں اور ہمیں امارت سے الگ کر دیں۔ جب وہ خاموش ہو گیا تو میں نے بات کرنے کا ارادہ کیا، میں نے ایک تقریر تیار کر رکھی تھی جو مجھے پسند تھی، میں چاہتا تھا کہ اسے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کروں، اور میں ان کے معاملے میں اپنی کچھ تیزی سے بچتا تھا۔ جب میں نے بات کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رک جاؤ۔ مجھے انہیں ناراض کرنا اچھا نہ لگا، چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی، وہ مجھ سے زیادہ بردبار اور باوقار تھے۔ اللہ کی قسم! میری تیار کردہ تقریر میں جو بات بھی مجھے پسند تھی انہوں نے فی البدیہہ ویسی ہی یا اس سے بہتر بات کہہ دی، یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گئے۔ انہوں نے فرمایا: تم نے جو بھی بھلائیاں اپنے متعلق بیان کی ہیں تم ان کے اہل ہو، لیکن یہ امارت قریش کے اسی قبیلے ہی کے لیے پہچانی جائے گی؛ یہ نسب، گھرانے اور مرتبے کے لحاظ سے تمام عرب میں اوسط (بہترین) ہیں، اور میں تمہارے لیے ان دو آدمیوں میں سے ایک پر راضی ہوں، تم جس کے ہاتھ پر چاہو بیعت کر لو، پھر انہوں نے میرا اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا، اور وہ ہمارے درمیان بیٹھے تھے۔ ان کی گفتگو میں سے مجھے اس کے سوا کوئی بات ناگوار نہ گزری۔ «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ مجھے آگے کر کے میری گردن مار دی جاتی، بشرطیکہ یہ مجھے کسی گناہ کے قریب نہ کرے، تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ میں ایسی قوم کا امیر بنوں جس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہوں، الا یہ کہ موت کے وقت میرا نفس مجھے کوئی ایسی بات سجھا دے جو اب میں (اپنے اندر) نہیں پاتا۔ پھر انصار کا ایک کہنے والا کہنے لگا: میں اس کا وہ تنا ہوں جس سے (خارش زدہ اونٹ) رگڑ کر شفا پاتے ہیں اور اس کا وہ کھجور کا درخت ہوں جسے سہارا دیا گیا ہو (یعنی میری رائے سے مسئلے حل ہوتے ہیں)؛ اے قریشیو! ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے۔ (یہ سن کر) شور بہت بڑھ گیا اور آوازیں بلند ہونے لگیں یہاں تک کہ مجھے اختلاف پیدا ہو جانے کا ڈر ہوا تو میں نے کہا: اے ابوبکر! اپنا ہاتھ بڑھائیں، انہوں نے ہاتھ بڑھایا تو میں نے ان کی بیعت کر لی، پھر مہاجرین نے بیعت کی اور اس کے بعد انصار نے بیعت کر لی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِيُّ ابْنُ الْحَمَّامِيِّ، رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ، وَأَنَا أَسْمَعُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالسُّنْحِ، فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَاللهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ مَا كَانَ يَقَعُ فِي نَفْسِي إِلَّا ذَاكَ، وَلَيَبْعَثَنَّهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقْطَعَنَّ أَيْدِيَ رِجَالٍ وَأَرْجُلَهُمْ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَشَفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَهُ وَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي طِبْتَ حَيًّا وَمَيِّتًا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُذِيقُكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَوْتَتَيْنِ أَبَدًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: أَيُّهَا الْحَالِفُ عَلَى رِسْلِكَ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ جَلَسَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَن كَانَ يَعْبُدُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ اللهَ حَيُّ لَا يَمُوتُ، وَقَالَ: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} [الزمر: ٣٠]، وَقَالَ: {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ، أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ، وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ} [آل عمران: ١٤٤] الْآيَةَ كُلَّهَا، فَنَشَجَ النَّاسُ يَبْكُونَ، وَاجْتَمَعَتِ الْأَنْصَارُ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ فَقَالُوا: مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَذَهَبَ إِلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَذَهَبَ عُمَرُ ⦗٢٤٦⦘ يَتَكَلَّمُ فَأَسْكَتَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: وَاللهِ مَا أَرَدْتُ بِذَاكَ إِلَّا أَنِّي قَدْ هَيَّأْتُ كَلَامًا قَدْ أَعْجَبَنِي خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْلُغَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَتَكَلَّمَ وَأَبْلَغَ فَقَالَ فِي كَلَامِهِ: نَحْنُ الْأُمَرَاءُ، وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ، قَالَ الْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ: لَا وَاللهِ لَا نَفْعَلُ أَبَدًا، مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا، وَلَكِنَّا الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ، هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ دَارًا وَأَعْرَبُهُمْ أَحْسَابًا، فَبَايِعُوا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَوْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ عُمَرُ: بَلْ نُبَايِعُكَ، أَنْتَ خَيْرُنَا وَسَيِّدُنَا وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذَ عُمَرُ بِيَدِهِ فَبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ النَّاسُ، فَقَالَ قَائِلٌ: قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: قَتَلَهُ اللهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺ فوت ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (مقام) سنح میں تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ”واللہ! نبی ﷺ فوت نہیں ہوئے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”اللہ کی قسم! میرے دل میں یہی بات آتی تھی، اور اللہ عزوجل آپ ﷺ کو ضرور اٹھائے گا اور آپ ﷺ کچھ لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیں گے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور نبی ﷺ (کے چہرے) سے کپڑا ہٹایا اور آپ ﷺ کو بوسہ دیا اور فرمایا: ”میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ زندگی میں بھی پاکیزہ رہے اور موت میں بھی، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ آپ کو کبھی دو موتوں کا ذائقہ نہیں چکھائے گا۔“ پھر باہر نکلے اور فرمایا: ”اے قسم کھانے والے! ٹھہر جا۔“ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بات شروع کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا، بے شک محمد ﷺ فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہے کبھی اسے موت نہیں آئے گی“ اور فرمایا: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ﴾ [سورة الزمر: 30] اور فرمایا: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ﴾ [سورة آل عمران: 144] لوگوں نے ہچکیاں لے کر رونا شروع کر دیا۔ پھر انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے لگے: ایک امیر ہمارا اور ایک تمہارا ہو گا، تو سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم ان کے پاس گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بات کرنے کا ارادہ کیا لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چپ کرا دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: ”اللہ کی قسم! میرا اس سے صرف یہ ارادہ تھا کہ میں نے ایک گفتگو تیار کر رکھی تھی جو مجھے پسند تھی، مجھے ڈر تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اس تک نہ پہنچ سکیں گے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بات کی اور بہت بلیغ بات کی، فرمایا: ”امیر ہم ہیں اور وزیر تم ہو۔“ سیدنا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: واللہ! ہم ایسا کبھی نہیں کریں گے، ایک امیر ہم میں سے اور ایک امیر تم میں سے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ امراء ہم ہیں اور وزراء تم؛ یہ (قریش) گھر کے لحاظ سے اوسط العرب اور حسب کے لحاظ سے سب سے اعلیٰ ہیں، اس لیے عمر بن خطاب یا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہما میں سے جس کی چاہو بیعت کر لو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بلکہ ہم آپ کی بیعت کریں گے، آپ ہم میں سب سے بہتر، ہمارے سردار اور رسول اللہ ﷺ کو (ہم میں) سب سے زیادہ محبوب ہیں“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے ہاتھ کو پکڑا اور آپ کی بیعت کر لی اور باقی تمام لوگوں نے بھی بیعت کر لی۔ ایک شخص کہنے لگا: سعد بن عبادہ کو تم نے قتل کر دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اسے اللہ نے قتل کیا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ فِي خُطْبَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَإِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ مَا أَطَاعُوا اللهَ وَاسْتَقَامُوا عَلَى أَمْرِهِ، قَدْ بَلَغَكُمْ ذَلِكَ أَوْ سَمِعْتُمُوهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ، وَاصْبِرُوا إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِينَ} [الأنفال: ٤٦]، فَنَحْنُ الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ، إِخْوَانُنَا فِي الدِّينِ وَأَنْصَارُنَا عَلَيْهِ. وَفِي خُطْبَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَهُ: نَشَدْتُكُمْ بِاللهِ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مَنْ سَمِعَهُ مِنْكُمْ، وَهُوَ يَقُولُ: " الْوُلَاةُ مِنْ قُرَيْشٍ مَا أَطَاعُوا اللهَ وَاسْتَقَامُوا عَلَى أَمْرِهِ "؟ فَقَالَ مَنْ قَالَ مِنَ الْأَنْصَارِ: بَلَى، الْآنَ ذَكَرْنَا، قَالَ: فَإِنَّا لَا نَطْلُبُ هَذَا الْأَمْرَ إِلَّا لِهَذَا، فَلَا تَسْتَهْوِيَنَّكُمُ الْأَهْوَاءُ، فَلَيْسَ بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ، فَأَنَّي تُصْرَفُونَ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن اسحاق بن یسار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خطبہ نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا تھا: یہ امر (امارت) قریش میں رہے گا جب تک وہ اللہ کی اطاعت کریں اور اس کے حکم پر قائم رہیں، اور تمہیں یہ بات رسول اللہ ﷺ سے پہنچی ہے یا تم نے سنی ہے، ﴿وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ [سورة الأنفال: 46] ”آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، اور صبر کرو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔ ہم امراء ہیں تم وزراء، تم ہمارے دینی بھائی ہو اور دین پر ہمارے مددگار ہو۔ پھر ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں فرمایا: اے انصاریو! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم نے، یا تم میں سے جس نے سنا، رسول اللہ ﷺ سے یہ نہیں سنا کہ ”حکمران قریش سے ہوں گے، جب تک وہ اللہ کی اطاعت کریں اور اس کے حکم پر قائم رہیں“؟ تو انصار میں سے کچھ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، اب ہمیں یاد آ گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اس امارت کو اسی (فرمان) کی وجہ سے طلب کرتے ہیں، لہٰذا خواہشات تمہیں بہکا نہ دیں، کیونکہ حق کے بعد گمراہی کے سوا کچھ نہیں، تو تم کہاں پھیرے جا رہے ہو؟
حَدَّثَنَا أبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا وُهَيْبٌ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ: يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْكُمْ قَرَنَ مَعَهُ رَجُلًا مِنَّا، فَنَرَى أَنْ يَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ رَجُلَانِ، أَحَدُهُمَا مِنْكُمْ وَالْآخَرُ مِنَّا، قَالَ: فَتَتَابَعَتْ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ عَلَى ذَلِكَ، فَقَامَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَإِنَّ الْإِمَامَ يَكُونُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَنَحْنُ أَنْصَارُهُ كَمَا كُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، وَثَبَّتَ قَائِلَكُمْ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا لَوْ فَعَلْتُمْ غَيْرَ ذَلِكَ لَمَا صَالَحْنَاكُمْ، ثُمَّ أَخَذَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ بِيَدِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: هَذَا ⦗٢٤٧⦘ صَاحِبُكُمْ فَبَايَعُوهُ، ثُمَّ انْطَلَقُوا، فَلَمَّا قَعَدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَلَمْ يَرَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَامَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَتَوْا بِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَتَنَهُ، أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ: لَا تَثْرِيبَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ فبايعه، ثُمَّ لَمْ يَرَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلَ عَنْهُ، حَتَّى جَاءُوا بِهِ، فَقَالَ: ابْنَ عَمَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَوَارِيَّهُ، أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ: لَا تَثْرِيبَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهُ فَبَايَعَاهُ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ فوت ہوئے تو انصار کے خطباء کھڑے ہوئے۔ ان میں سے ایک کہنے لگا: اے مہاجرین کی جماعت! جب بھی نبی ﷺ نے تم میں سے کسی کو عامل بنایا تو اس کے ساتھ ایک آدمی ہم میں سے بھی مقرر فرمایا، لہٰذا ہمارا خیال ہے کہ اس امارت کو دو آدمی سنبھالیں، ایک ہم میں سے ایک تم میں سے۔ سارے خطباء نے اس کی تائید کی تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور فرمایا: نبی ﷺ خود مہاجرین میں سے تھے اور امام بھی مہاجرین سے ہوگا اور ہم اس کے بھی اسی طرح مددگار ہوں گے جس طرح رسول اللہ ﷺ کے مددگار تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے انصاریو! تمہیں اللہ بہترین بدلہ دے اور تمہارے کہنے والے کو ثابت قدم رکھے، پھر فرمایا: سنو! اگر تم اس کے علاوہ کچھ کرتے تو ہم تم سے صلح نہ کرتے۔ پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: یہ تمہارے امیر ہیں، ان کی بیعت کرلو، پھر لوگ چلے گئے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر بیٹھے تو لوگوں کے چہروں کو دیکھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نظر نہ آئے۔ ان کے بارے میں پوچھا تو انصار کے کچھ لوگ اٹھے اور انہیں لے آئے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے چچا کے بیٹے اور آپ ﷺ کے داماد! کیا تم نے مسلمانوں کی جماعت میں پھوٹ ڈالنے کا ارادہ کیا تھا؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے خلیفۂ رسول! کوئی ملامت نہیں، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی بیعت کرلی۔ پھر سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نظر نہ آئے۔ ان کے بارے میں پوچھا یہاں تک کہ لوگ انہیں لے آئے تو فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی کے بیٹے اور آپ ﷺ کے حواری! کیا تم نے مسلمانوں کی جماعت میں پھوٹ ڈالنے کا ارادہ کیا تھا؟ انہوں نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ والی بات کہی: اے خلیفۂ رسول! کوئی ملامت نہیں، اور دونوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَافِظُ الْإِسْفِرَائِينِيُّ، ثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَا: ثَنَا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، ثَنَا وُهَيْبٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، يَقُولُ: جَاءَنِي مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فَسَأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَكَتَبْتُهُ لَهُ فِي رُقْعَةٍ وَقَرَأْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ يَسْوِي بَدَنَةً، فَقُلْتُ: يَسْوِي بَدَنَةً؟ بَلْ هُوَ يَسْوِي بَدْرَةً.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت، «تَقَدَّمَ قَبْلَهُ»۔
محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے پاس مسلم بن حجاج آئے اور مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، میں نے اسے ان کے لیے ایک پرچے پر لکھا اور انہیں پڑھ کر سنایا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث ایک قربانی کے اونٹ (بدنہ) کے برابر ہے۔ میں نے کہا: بدنہ کے برابر؟ بلکہ یہ تو ایک بدرہ (درہموں سے بھری تھیلی) کے برابر ہے۔
محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے پاس مسلم بن حجاج آئے اور مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، میں نے اسے ان کے لیے ایک پرچے پر لکھا اور انہیں پڑھ کر سنایا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث ایک قربانی کے اونٹ (بدنہ) کے برابر ہے۔ میں نے کہا: بدنہ کے برابر؟ بلکہ یہ تو ایک بدرہ (درہموں سے بھری تھیلی) کے برابر ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثَنَا الْفَيْضُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ائمہ قریش سے ہی ہوں گے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، ثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَهْلٍ، عَنْ بُكَيْرٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَيْتٍ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، قَالَ: فَجَعَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يُوَسِّعُ لَهُ يَرْجُو أَنْ يَجْلِسَ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَامَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ فَقَالَ: " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ، وَلِي عَلَيْكُمْ حَقٌّ عَظِيمٌ، وَلَهُمْ مِثْلُهُم مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا: إِذَا اسْتُرْحِمُوا وَرَحَمُوا، وَحَكَمُوا فَعَدَلُوا، وَعَاهَدُوا فَوَفَوْا. فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَهْلٍ، يُكَنَّى أَبَا أَسَدٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ عَنْ سَهْلٍ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي الْأَسَدِ، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ عَلِيٍّ أَبِي الْأَسَدِ، وَهُوَ وَاهِمٌ فِيهِ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَاهُ الْأَعْمَشُ وَمِسْعَرٌ، وَهُوَ سَهْلٌ الْقَرَارِيّ /٦٣ ُ مِنْ بَنِي قَرَارٍ يُكَنَّى أَبَا أَسَدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے؛ ہم ایک گھر میں مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ہم میں سے ہر ایک شخص اپنے پہلو میں جگہ بنانے لگا تاکہ نبی ﷺ اس کے ساتھ بیٹھیں، لیکن آپ ﷺ دروازے پر ہی کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”ائمہ قریش ہی سے ہوں گے، جس طرح میرا تم پر بڑا حق ہے اسی طرح ان کا بھی ہے، جب تک وہ تین کام کریں: جب ان سے رحم طلب کیا جائے تو رحم کریں، فیصلہ کریں تو عدل کریں، اور عہد کریں تو پورا کریں۔ ان میں سے جو ایسا نہ کرے اس پر اللہ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ إِذَا مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا، وَإِذَا عَاهَدُوا وَفَوْا، وَإِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ائمہ قریش سے ہیں۔ جب وہ فیصلہ کریں تو عدل کریں اور رحم طلب کیا جائے تو رحم کریں اور عہد کریں تو اس کو پورا کریں۔“
وَرَوَاهُ أَيْضًا مُوسَى الْجُهَنِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ مُوسَى الْجُهَنِيُّ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ الْحَافِظُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، ثَنَا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ يَقُولُهَا ثَلَاثًا أَلَا وَلِي عَلَيْكُمْ حَقٌّ، وَلَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقٌّ مَا عَمِلُوا فِيكُمْ بِثَلَاثٍ: مَا رَحِمُوا إِذَا اسْتُرْحِمُوا، وَمَا أَقْسَطُوا إِذَا قَسَمُوا، وَمَا عَدَلُوا إِذَا حَكَمُوا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: ”ائمہ قریش سے ہیں۔ جس طرح میرا تم پر حق ہے اسی طرح ان کا بھی ہے، جب تک وہ تین کام کرتے رہیں: رحم کریں، انصاف اور فیصلوں میں عدل۔“ [حسن]
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ بَيَانٍ، ثَنَا عَارِمٌ، ثَنَا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ، الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ، وَلِي عَلَيْهِمْ حَقٌّ، وَلَكُمْ عَلَيْهِمْ حَقٌّ مَا عَمِلُوا فِيكُمْ بِثَلَاثٍ: مَا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا، وَأَقْسَطُوا إِذَا قَسَمُوا، وَعَدَلُوا إِذَا حَكَمُوا ".
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِقُرَيْشٍ: أَنْتُمْ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ مَا كُنْتُمْ مَعَ الْحَقِّ، إِلَّا أَنْ تَعْدِلُوا عَنْهُ فَتُلْحَوْنَ كَمَا تُلْحَى هَذِهِ الْجَرِيدَةُ " يُشِيرُ إِلَى جَرِيدَةٍ بِيَدِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے قریش کے لیے فرمایا: ”تم لوگوں میں امارت کے زیادہ حق دار ہو جب تک تم حق کے ساتھ رہو گے، مگر یہ کہ تم اس سے ہٹ جاؤ تو تمہیں اس طرح چھیل دیا جائے گا جیسے یہ جریدہ (کھجور کی ٹہنی) چھیلی جاتی ہے۔“ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ میں جریدے کی طرف اشارہ فرمایا۔