السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: قبول توبة الساحر، وحقن دمه بتوبته باب: جادوگر کی توبہ قبول ہونے اور اس کی توبہ کے سبب اس کی جان بچ جانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، مِنْ أَصْلِهِ، قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ دُومَةِ الْجَنْدَلِ، جَاءَتْ تَبْتَغِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَوْتِهِ حَدَاثَةَ ذَلِكَ تَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ دَخَلَتْ فِيهِ مِنْ أَمْرِ السِّحْرِ وَلَمْ تَعْمَلْ بِهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لِعُرْوَةَ: يَا ابْنَ أُخْتِي فَرَأَيْتُهَا تَبْكِي حِينَ لَمْ تَجِدْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَتْ تَبْكِي حَتَّى أَنِّي لَأَرْحَمُهَا، تَقُولُ: إِنِّي لَأَخَافُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ، كَانَ لِي زَوْجٌ فَغَابَ عَنِّي، فَدَخَلْتُ عَلَى عَجُوزٍ فَشَكَوْتُ إِلَيْهَا ذَلِكَ، فَقَالَتْ: إِنْ فَعَلْتِ مَا آمُرُكِ بِهِ فَأَجْعَلْهُ يَأْتِيكِ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ جَاءَتْنِي بِكَلْبَيْنِ أَسْوَدَيْنِ فَرَكِبَتْ أَحَدَهُمَا وَرَكِبْتُ الْآخَرَ، فَلَمْ يَكُنْ كَثِيرٌ حَتَّى وَقَفْنَا بِبَابِلَ، فَإِذَا بِرَجُلَيْنِ مُعَلَّقَيْنِ بِأَرْجُلِهِمَا، فَقَالَا: مَا جَاءَ بِكِ؟ فَقُلْتُ: أَتَعَلَّمُ السِّحْرَ، فَقَالَا: إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ، فَلَا تَكْفُرِي، وَارْجِعِي، ⦗٢٣٦⦘ فَأَبَيْتُ وَقُلْتُ: لَا، قَالَا: فَاذْهَبِي إِلَى ذَلِكَ التَّنُّورِ فَبُولِي فِيهِ، فَذَهَبْتُ فَفَزِعْتُ وَلَمْ تَفْعَلْ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: فَعَلْتِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَا: هَلْ رَأَيْتِ شَيْئًا؟ قُلْتُ: لَمْ أَرَ شَيْئًا، فَقَالَا: لَمْ تَفْعَلِي، ارْجِعِي إِلَى بِلَادِكِ، وَلَا تَكْفُرِي. فَأَرِبْتُ وَأَبَيْتُ، فَقَالَا: اذْهَبِي إِلَى ذَلِكَ التَّنُّورِ فَبُولِي فِيهِ، ثُمَّ ائْتِي، فَذَهَبْتُ فَاقْشَعَرَّ جِلْدِي وَخِفْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِمَا فَقُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ، فَقَالَا: فَمَا رَأَيْتِ؟ فَقُلْتُ: لَمْ أَرَ شَيْئًا، فَقَالَا: كَذَبْتِ، لَمْ تَفْعَلِي، فَارْجِعِي إِلَى بِلَادِكِ وَلَا تَكْفُرِي، فَإِنَّكِ عَلَى رَأْسِ أَمْرِكِ. فَأَرِبْتُ وَأَبَيْتُ، فَقَالَا: اذْهَبِي إِلَى ذَلِكَ التَّنُّورِ فَبُولِي فِيهِ، فَذَهَبْتُ إِلَيْهِ فَبُلْتُ فِيهِ فَرَأَيْتُ فَارِسًا مُقَنَّعًا بِحَدِيدٍ قَدْ خَرَجَ مِنِّي، حَتَّى ذَهَبَ فِي السَّمَاءِ، وَغَابَ عَنِّي حَتَّى مَا أُرَاهُ، فَجِئْتُهُمَا فَقُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ، فَقَالَا: فَمَا رَأَيْتِ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْتُ فَارِسًا مُقَنَّعًا خَرَجَ مِنِّي فَذَهَبَ فِي السَّمَاءِ حَتَّى مَا أُرَاهُ، فَقَالَا: صَدَقْتِ، ذَلِكَ إِيمَانُكِ خَرَجَ مِنْكِ، اذْهَبِي فَقُلْتُ لِلْمَرْأَةِ: وَاللهِ مَا أَعْلَمُ شَيْئًا، وَمَا قَالَ لِي شَيْئًا، قَالَتْ: بَلَى، إِنْ تُرِيدِي شَيْئًا إِلَّا كَانَ، خُذِي هَذَا الْقَمْحَ فَابْذُرِي، فَبَذَرْتُ، فَقُلْتُ: اطْلُعِي، فَطَلَعَتْ، فَقُلْتُ: أَحْقِلِي، فَأَحْقَلَتْ، ثُمَّ قُلْتُ: أَفْرِكِي، فَأَفْرَكَتْ، ثُمَّ قُلْتُ: أَيْبِسِي، فَأَيْبَسَتْ، ثُمَّ قُلْتُ: اطْحَنِي، فَأَطْحَنَتْ، ثُمَّ قُلْتُ: اخْبِزِي، فَأَخْبَزْتُ. فَلَمَّا رَأَيْتُ أَنِّي لَا أُرِيدُ شَيْئًا إِلَّا كَانَ سُقِطَ فِي يَدَي، وَنَدِمْتُُ وَاللهِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مَا فَعَلْتُ شَيْئًا قَطُّ وَلَا أَفْعَلُهُ أَبَدًا. فَسَأَلَتْ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَوْمَئِذٍ مُتَوَافِرُونَ فَمَا دَرَوْا مَا يَقُولُونَ لَهَا، وَكُلُّهُمْ هَابَ وَخَافَ أَنْ يُفْتِيَهَا بِمَا لَا يَعْلَمُ، إِلَّا أَنَّهُ قَدْ قَالَ لَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَوْ بَعْضُ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ: لَوْ كَانَ أَبَوَاكَ حَيَّيْنِ أَوْ أَحَدُهُمَا. قَالَ هِشَامٌ: فَلَوْ جَاءَتْنَا الْيَوْمَ أَفْتَيْنَاهَا بِالضَّمَانِ. قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ: وَكَانَ هِشَامٌ يَقُولُ: إِنَّهُمْ كَانُوا أَهْلَ وَرَعٍ وَخَشْيَةٍ مِنَ اللهِ، وَبُعَدَاءَ مِنَ التَّكَلُّفِ وَالْجُرْأَةِ عَلَى اللهِ، ثُمَّ يَقُول هِشَامٌ: وَلَكِنَّهَا لَوْ جَاءَتِ الْيَوْمَ مِثْلُهَا لَوَجَدَتْ تُوكِي أَهْلَ حُمْقٍ وَتَكَلُّفٍ بِغَيْرِ عَلِمٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دُومۃ الجندل کی ایک عورت نبی ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ سے ملنے آئی تاکہ وہ کچھ سوال کرے جس میں جادو کا اثر تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عروہ رحمہ اللہ سے کہا: میں نے دیکھا کہ جب اسے آپ ﷺ کی وفات کا پتا چلا تو وہ رو پڑی۔ مجھے اس پر بڑا ترس آیا، مجھے ڈر ہوا کہ کہیں وہ میری وجہ سے ہلاک ہی نہ ہو جائے، وہ کہنے لگی: میرا خاوند غائب ہو گیا۔ میں ایک بڑھیا کے پاس آئی تو وہ کہنے لگی: جب رات ہو تو دو سیاہ کتے لانا، ایک پر وہ سوار ہو گئی اور ایک پر میں۔ ہم چلے یہاں تک کہ بابل میں پہنچے تو میں نے دیکھا کہ دو شخص الٹے لٹکے ہوئے ہیں۔ وہ کہنے لگے: کیوں آئی ہو؟ میں نے کہا: کیا تم جادو سکھاتے ہو؟ تو انھوں نے کہا: ﴿إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ﴾ [سورة البقرة: 102] ”ہم تو محض ایک آزمائش ہیں، پس تم کفر نہ کرو“ اور کہنے لگے: لوٹ جا۔ میں نے انکار کر دیا تو انھوں نے کہا: ”اس تنور کے پاس جاؤ اور اس میں پیشاب کرو“، وہ گئی لیکن گھبراہٹ کی وجہ سے نہ کر سکی اور ویسے ہی آ گئی۔ پوچھا: ”کیا پیشاب کر آئی ہو؟“ کہا: ہاں! پوچھا: ”کیا کچھ دیکھا ہے؟“ کہا: نہیں، تو وہ کہنے لگے: ”پھر تم نے کچھ کیا ہی نہیں۔ ہم پھر کہتے ہیں: واپس چلی جا کفر نہ کر“۔ لیکن پھر میں نے انکار کر دیا، پھر بولے: ”جاؤ اس تنور میں پیشاب کر کے آؤ“، لیکن وہ نہ کر سکی، واپس آئی اور وہی بات انھوں نے دہرائی کہ واپس چلی جا کفر نہ کر، میں نے انکار کر دیا تو بولے: ”جاؤ اس میں پیشاب کرو“، میں گئی اور کر دیا تو میں نے دیکھا کہ میرے اندر سے ایک گھڑ سوار نکلا ہے اور آسمان میں چلا گیا، میں واپس آئی اور سارا واقعہ ان دونوں کو سنایا تو وہ کہنے لگے: ”یہ تیرا ایمان تھا جو تجھ سے نکل گیا“۔ میں نے اس عورت سے کہا کہ واللہ! مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا، تو وہ کہنے لگی کہ تو جس چیز کا بھی ارادہ کرے گی وہ ہو جائے گی۔ یہ گندم لے اسے بکھیر پھر اکٹھا کر اور پیس اور آٹا بنا پھر اسے گوندھ پھر اس کی روٹی بنا۔ جب میں نے یہ کام کیے تو میں نے دیکھا کہ میں جس چیز کا بھی ارادہ کرتی، وہ میرے ہاتھوں میں آ گرتی۔ واللہ! اے ام المؤمنین! میں نادم ہوں، میں نے اس سے ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا اور نہ آئندہ کروں گی۔ میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں سوال کیا لیکن کسی نے بھی بغیر علم کے فتویٰ دینے سے انکار کر دیا۔ صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ان کے چند ساتھیوں نے یہ بات کہی کہ اگر تیرے والدین یا ان میں سے کوئی ایک زندہ ہوتا۔ ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر ہم سے یہ سوال ہوتا تو ہم ضمان کا فتویٰ دیتے، لیکن چونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بہت زیادہ محتاط اور اللہ سے ڈرنے والے تھے اس لیے خاموش رہے۔ پھر ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر آج ایسا کوئی واقعہ ہو جائے تو کئی احمق اور بیوقوف کھڑے ہو جائیں جو بغیر علم کے فتویٰ دیں۔