کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس کا جادو کفر کی حد تک نہ پہنچا ہو اور اس نے اس کے ذریعے کسی کو قتل نہ کیا ہو تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَمْرَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ وَهُوَ أَبُو الرِّجَالِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَصَابَهَا مَرَضٌ وَأَنَّ بَعْضَ بَنِي أَخِيهَا ذَكَرُوا شَكْوَاهَا لِرَجُلٍ مِنَ الزُّطِّ يَتَطَيَّبُ، وَأَنَّهُ قَالَ لَهُمْ: إِنَّكُمْ لَتَذْكُرُونَ امْرَأَةً مَسْحُورَةً سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا فِي حِجْرِ الْجَارِيَةِ الْآنَ صَبِيُّ قَدْ بَالَ فِي ⦗٢٣٧⦘ حِجْرِهَا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ الله عَنْهَا فَقَالَتْ: ادْعُوا لِي فُلَانَةً، لَجَارِيَةٍ لَهَا، قَالُوا: فِي حِجْرِهَا فُلَانٌ، لِصَبِيٍّ لَهُمْ، قَدْ بَالَ فِي حِجْرِهَا، فَقَالَتْ: إِيْتُونِي بِهَا، فَأُتِيَتْ بِهَا فَقَالَتْ: سَحَرْتِنِي؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: لِمَهْ؟ قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أُعْتَقَ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَعْتَقَتْهَا عَنْ دُبُرٍ مِنْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ لِلَّهِ عَلِيَّ أَنْ لَا تُعْتَقِي أَبَدًا، انْظُرُوا أَسْوَأَ الْعَرَبِ مَلَكَةً فَبِيعُوهَا مِنْهُمْ، وَاشْتَرَتْ بِثَمَنِهَا جَارِيَةً فَأَعْتَقَتْهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ ایک دفعہ وہ بیمار ہوگئیں تو ان کے بعض بھتیجوں نے ان کی بیماری کا ذکر زط قوم کے ایک آدمی سے کیا جو علاج معالجہ کرتا تھا، تو اس نے ان سے کہا: تم ایک ایسی عورت کا ذکر کر رہے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے، اس پر اس کی لونڈی نے جادو کیا ہے، اس لونڈی کی گود میں اب ایک بچہ بھی ہے جس نے اس کی گود میں پیشاب کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات آ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو آپ نے فرمایا: فلاں لونڈی کو بلاؤ، انہوں نے کہا: اس کی گود میں ہمارا فلاں بچہ ہے جس نے اس کی گود میں پیشاب کر دیا ہے، آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ، اسے لایا گیا تو آپ نے پوچھا: کیا تو نے مجھ پر جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، پوچھا: کیوں؟ کہنے لگی: میں چاہتی تھی کہ آزاد ہو جاؤں، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے اپنی وفات کے بعد آزاد ہونے والی (مدبرہ) قرار دیا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں اللہ کے لیے نذر مانتی ہوں کہ تو کبھی آزاد نہ ہوگی، دیکھو عربوں میں سے جو غلاموں کے ساتھ سب سے برا سلوک کرنے والے ہوں انہیں یہ بیچ دو، اور پھر اس کی قیمت سے ایک دوسری لونڈی خریدی اور اسے آزاد کر دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: دَخَلَتْ امْرَأَةٌ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: هَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أَقِيدَ جَمَلِي؟ قَالَتْ: قِيدِي جَمَلَكِ، قَالَتْ: فَأَحْبِسُ عَلَى زَوْجِي؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَخْرِجُوا عَنِّي السَّاحِرَةَ فَأَخْرَجُوهَا.
حافظ ثناء اللہ
ابن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اگر میں جادو سے اپنے اونٹ کو قید کر لوں؟ انہوں نے فرمایا: ٹھیک ہے، کہنے لگی: اگر اپنے خاوند کو اپنا بنا لوں؟ تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اسے یہاں سے نکال دو، یہ جادوگر ہے، تو اسے نکال دیا گیا۔