أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ، يُقَالُ لَهُ: قَتَادَةُ، حَذَفَ ابْنَهُ بِسَيْفٍ فَأَصَابَ سَاقَهُ فَنَزَّى فِي جُرْحِهِ فَمَاتَ. فَقَدِمَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ، عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَعْدِدْ لِي عَلَى قُدَيْدٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ بَعِيرٍ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَيْكَ. فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ أَخَذَ مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً، وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً، وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: هَأَنَذَا، قَالَ: خُذْهَا، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ " زَادَ أَبُو عَبْدِ اللهِ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ حَفِظْتُ عَنْ عَدَدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لَقِيتُهُمْ: أَنْ لَا يُقْتَلَ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ، وَبِذَلِكَ أَقُولُ. قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا الْحَدِيثُ مُنْقَطِعٌ فأَكَّدَّهُ الشَّافِعِيُّ بِأَنَّ عَدَدًا مِنْ أَهْلِ الْعِلَمِ يَقُولُ بِهِ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بنو مدلج کے ایک قتادہ نامی شخص نے اپنے بیٹے کو تلوار پھینک کر ماری، وہ لگ گئی، وہ زخمی ہوا اور مر گیا۔ سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ قصہ بتایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ 120 اونٹ تیار کرو اور میرا انتظار کرو، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے، ان اونٹوں میں 30 حقے، 30 جذعے اور 40 خلفہ اونٹ لیے اور فرمایا: مقتول کا بھائی کہاں ہے؟ تو اس نے کہا: میں یہاں ہوں۔ فرمایا: یہ لے لو۔ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قاتل کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سارے اہل علم سے سنا ہے کہ والد کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور میں بھی یہی کہتا ہوں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت منقطع ہے، امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کی تاکید اس بات سے کی ہے کہ بہت سارے اہل علم اسی کے قائل ہیں، اور یہ موصولاً بھی مروی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سارے اہل علم سے سنا ہے کہ والد کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور میں بھی یہی کہتا ہوں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت منقطع ہے، امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کی تاکید اس بات سے کی ہے کہ بہت سارے اہل علم اسی کے قائل ہیں، اور یہ موصولاً بھی مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِحْمِشٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِهِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا عَمْرٌو، يَعْنِي ابْنَ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ مَنْصُورٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: نَحَلَتْ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ جَارِيَةٌ فَأَصَابَ مِنْهَا ابْنَا، فَكَانَ يَسْتَخْدِمُهَا، فَلَمَّا شَبَّ الْغُلَامُ دَعَاهَا يَوْمًا فَقَالَ: اصْنَعِي كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: لَا تَأْتِيكَ، حَتَّى مَتَى تَسْتَأْمِي أُمِّي؟ قَالَ: فَغَضِبَ فَحَذَفَهُ بِسَيْفِهِ فَأَصَابَ رِجْلَهُ فَنَزَفَ الْغُلَامُ فَمَاتَ، فَانْطَلَقَ فِي رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ إِلَى ⦗٧٠⦘ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَنْتَ الَّذِي قَتَلْتَ ابْنَكَ، لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يُقَادُ الْأَبُ مِنِ ابْنِهِ " لَقَتَلْتُكَ، هَلُمَّ دِيَتَهُ. قَالَ: فَأَتَاهُ بِعِشْرِينَ أَوْ ثَلَاثِينَ وَمِائَةِ بَعِيرٍ. قَالَ: فَخِيرَ مِنْهَا مِائَةٌ فَدَفَعَهَا إِلَى وَرَثَتِهِ، وَتَرَكَ أَبَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنو مدلج کے ایک شخص کو ایک لونڈی دی گئی، اس سے اس کا ایک بیٹا پیدا ہوا، وہ اس لونڈی سے خدمت لیا کرتا تھا۔ جب لڑکا جوان ہو گیا تو اس شخص نے ایک دن اس (لونڈی) کو بلایا اور کہا: فلاں فلاں کام کرو۔ لڑکے نے کہا: وہ تمہارے پاس نہیں آئے گی، تم کب تک میری ماں کو لونڈی بنائے رکھو گے؟ اس پر وہ غصے میں آ گیا اور تلوار اسے پھینک کر ماری جو اس کی ٹانگ پر لگی، لڑکے کا خون بہتا رہا اور وہ مر گیا۔ وہ اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اپنی جان کے دشمن! تو نے ہی اپنے بیٹے کو قتل کیا ہے۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ ”باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا“ تو میں تجھے قتل کر دیتا۔ لاؤ اس کی دیت دو“۔ تو وہ 120 یا 130 اونٹ لایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے 100 اونٹ چن کر اس کے ورثاء کو دے دیے اور باپ کو (وراثت سے) الگ رکھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الزُّهْرِيُّ الْقَاضِي، بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ رَجُلٍ، يُقَالُ لَهُ: عَرْفَجَةُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ عَلَى الْوَالِدِ قَوَدٌ مِنْ وَلَدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”والد سے اس کے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ: أنبأ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَلَا يُقَادُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ " إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ هَذَا فِيهِ، ضَعْفٌ، وَقَدْ رَوَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ عَمْرٍو، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حدود کو مساجد میں نہ قائم کرو اور والد سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔“
اسماعیل بن مسلم مکی میں ضعف ہے۔
اسماعیل بن مسلم مکی میں ضعف ہے۔
أَخْبَرْنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو حَفْصٍ التَّمَّارُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَلَا يُقْتَلُ وَالِدٌ بِوَلَدِهِ " أَبُو حَفْصٍ التَّمَّارُ هُوَ أَبُو تَمَامٍ عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ السَّعْدِيُّ، كَانَ يَنْزِلُ فِي بَنِي رِفَاعَةَ. وَرَوَاهُ أَيْضًا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حدود کو مسجد میں قائم نہ کرو اور والد سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔“