السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: الرجل يقتل ابنه باب: آدمی کا اپنے بیٹے کو قتل کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِحْمِشٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِهِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا عَمْرٌو، يَعْنِي ابْنَ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ مَنْصُورٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: نَحَلَتْ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ جَارِيَةٌ فَأَصَابَ مِنْهَا ابْنَا، فَكَانَ يَسْتَخْدِمُهَا، فَلَمَّا شَبَّ الْغُلَامُ دَعَاهَا يَوْمًا فَقَالَ: اصْنَعِي كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: لَا تَأْتِيكَ، حَتَّى مَتَى تَسْتَأْمِي أُمِّي؟ قَالَ: فَغَضِبَ فَحَذَفَهُ بِسَيْفِهِ فَأَصَابَ رِجْلَهُ فَنَزَفَ الْغُلَامُ فَمَاتَ، فَانْطَلَقَ فِي رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ إِلَى ⦗٧٠⦘ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَنْتَ الَّذِي قَتَلْتَ ابْنَكَ، لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يُقَادُ الْأَبُ مِنِ ابْنِهِ " لَقَتَلْتُكَ، هَلُمَّ دِيَتَهُ. قَالَ: فَأَتَاهُ بِعِشْرِينَ أَوْ ثَلَاثِينَ وَمِائَةِ بَعِيرٍ. قَالَ: فَخِيرَ مِنْهَا مِائَةٌ فَدَفَعَهَا إِلَى وَرَثَتِهِ، وَتَرَكَ أَبَاهُ.سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے بنو مدلج کے ایک شخص کو لونڈی دی، اس سے اس کا بیٹا بھی پیدا ہوا۔ جب وہ بیٹا جوان ہو گیا تو اس شخص نے اسے کہا کہ فلاں فلاں میرا کام کرو، اس نے انکار کیا تو اس شخص نے غصے میں تلوار اسے پھینک کر ماری، جس سے وہ زخمی ہو گیا اور پھر اس زخم سے وہ مر گیا۔ اس کی قوم کے لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور سارا واقعہ سنایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ کے دشمن! تو نے اپنے بیٹے کو قتل کیا ہے۔ اگر میں نے نبی ﷺ کا یہ فرمان نہ سنا ہوتا کہ ”باپ کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا“ تو میں تجھے قتل کر دیتا۔ لاؤ دیت دو“۔ تو وہ ۱۲۰ یا ۱۳۰ اونٹ لایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے ۱۰۰ اونٹ لے کر اس کے ورثاء کو دے دیے اور باپ کو کچھ نہ دیا۔
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کا یہ فیصلہ تھا کہ ”بیٹے کو تو باپ کے بدلے میں قتل کیا جائے گا، باپ کو نہیں“۔