کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جان کے علاوہ دیگر اعضاء کے تلف کرنے میں مردوں اور عورتوں، نیز غلاموں کے درمیان قصاص کا بیان۔
حدیث نمبر: 15968
قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي التَّرْجَمَةِ: يُذْكَرُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: تُقَادُ الْمَرْأَةُ مِنَ الرَّجُلِ فِي كُلِّ عَمْدٍ يَبْلُغُ نَفْسَهُ فَمَا دُونَهَا مِنَ الْجِرَاحِ، وَبِهِ قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو الزِّنَادِ عَنْ أَصْحَابِهِ، قَالَ: وَجَرَحَتْ أُخْتُ الرُّبَيِّعِ إِنْسَانًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْقِصَاصُ قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا الرِّوَايَةُ فِي ذَلِكَ عَنِ الْعُمَرَيْنِ فَقَدْ مَضَتْ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ فِي كِتَابٍ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: يُقَادُ الْمَمْلُوكُ مِنَ الْمَمْلُوكِ فِي كُلِّ عَمْدٍ يَبْلُغُ نَفْسَهُ فَمَا دُونَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں فرمایا: ”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ: ”ہر اس عمداً (کیے گئے جرم) میں جو جان تک یا اس سے کم زخموں تک پہنچے، عورت سے مرد کا قصاص لیا جائے گا۔“ اور یہی بات عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہی، اور ابو الزناد رحمہ اللہ نے اپنے اصحاب سے (نقل کی)۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور ربیع کی بہن نے ایک شخص کو زخمی کر دیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قصاص (ہوگا)۔““
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جہاں تک اس بارے میں دونوں عمر (سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ) سے روایت کا تعلق ہے تو وہ عبدالعزیز بن عمر سے گزر چکی ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی ایک تحریر میں تھا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہر اس عمداً (کیے گئے جرم) میں جو جان تک یا اس سے کم تک پہنچے، غلام سے غلام کا قصاص لیا جائے گا۔““
انہوں نے فرمایا: ”اور ربیع کی بہن نے ایک شخص کو زخمی کر دیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قصاص (ہوگا)۔““
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جہاں تک اس بارے میں دونوں عمر (سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ) سے روایت کا تعلق ہے تو وہ عبدالعزیز بن عمر سے گزر چکی ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی ایک تحریر میں تھا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہر اس عمداً (کیے گئے جرم) میں جو جان تک یا اس سے کم تک پہنچے، غلام سے غلام کا قصاص لیا جائے گا۔““
حدیث نمبر: 15968
وَأَمَّا حَدِيثُ أُخْتِ الرُّبَيِّعِ فَأَخْبَرْنَاهُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ فَذَكَرَهُ وَذَلِكَ يَرِدُ بِتَمَامِهِ فِي مَوْضِعِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ وَخَالَفَهُ حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، فَقَالَ: لَطَمَتِ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذٍ جَارِيَةً فَكَسَرَتْ ثَنِيَّتَهَا وَثَابِتٌ أَحْفَظُ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُمَا قِصَّتَانِ، وَهَذَا هُوَ الْأَظْهَرُ وَرُوِيَ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا.
حافظ ثناء اللہ
انس رضی اللہ عنہ سے لمبی روایت ہے، یہ اپنی جگہ پر ان شاء اللہ آئے گی اور حمید عن انس میں کچھ مخالفت ہے کہ انس فرماتے ہیں کہ ربیع رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی کو تھپڑ مارا جس سے اس کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے تھے، لیکن ثابت اور احفظ یہی ہے کہ یہ دو قصے ہیں اور اس میں ابن عباس اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کی روایات ہیں۔
حدیث نمبر: 15969
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ ⦗٧٢⦘ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى} [البقرة: ١٧٨] قَالَ: كَانُوا لَا يَقْتُلُونَ الرَّجُلَ بِالْمَرْأَةِ، وَلَكِنْ يَقْتُلُونَ الرَّجُلَ بِالرَّجُلِ، وَالْمَرْأَةَ بِالْمَرْأَةِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {النَّفْسَ بِالنَّفْسِ} [المائدة: ٤٥] قَالَ: فَجَعَلَ الْأَحْرَارَ فِي الْقِصَاصِ سَوَاءً فِيمَا بَيْنَهُمْ فِي الْعَمْدِ، رِجَالَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ فِي النَّفْسِ وَفِيمَا دُونَ النَّفْسِ، وَجَعَلَ الْعَبِيدَ مُسْتَوِينَ فِيمَا بَيْنَهُمْ فِي الْعَمْدِ فِي النَّفْسِ وَفِيمَا دُونَ النَّفْسِ، رِجَالَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ﴾ [سورة البقرة: 178] ہے: ”آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، مونث کے بدلے مونث“ کو قتل کیا جائے گا۔ وہ فرماتے ہیں کہ عورت کے بدلے مرد قتل نہیں کیا جاتا تھا بلکہ مرد کے بدلے مرد اور عورت کے بدلے عورت قتل کردی جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ﴾ [سورة المائدة: 45] ”جان کے بدلے جان ہے“، تو آزاد قصاص میں مرد و عورت برابر ٹھہرے اور غلام مرد اور عورت برابر ٹھہرے کہ جان کے بدلے جان ہی ہے۔
حدیث نمبر: 15970
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، أَنَّ السُّنَّةَ مَضَتْ فِيمَا بَلَغَهُ بِذَلِكَ: إِذَا كَانَا حُرَّيْنِ، يَعْنِي الرَّجُلَ وَالْمَرْأَةَ، فَإِنْ فَقَأَ عَيْنَهَا فُقِئَتْ عَيْنُهُ قَالَ: وَبَلَغَنِي عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مِثْلُ ذَلِكَ، أَنَّهُ يُقْتَلُ بِهَا وَيُقْتَصُّ مِنْهُ وَأَمَّا الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنِ التَّابِعِينَ.
حافظ ثناء اللہ
بکیر بن اشج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سنت یہی ہے کہ ”آزاد چاہے مرد ہو یا عورت دونوں کا خون برابر ہے۔ اگر ایک عورت کی آنکھ پھوڑ دی جائے تو بدلے میں اس مرد کی بھی آنکھ پھوڑی جائے گی“ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بھی مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ”عورت کے بدلے مرد قتل کیا جائے گا، اس سے قصاص لیا جائے گا“۔
حدیث نمبر: 15971
فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَخَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، فِي مَشْيَخَةٍ جُلَّةُ سِوَاهُمْ مِنْ نُظَرَائِهِمْ أَهْلُ فِقْهٍ وَفَضْلٍ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِي الشَّيْءِ فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ أَكْثَرِهِمْ وَأَفْضَلِهِمْ رَأْيًا وَكَانَ الَّذِي وَعَيْتُ عَنْهُمْ عَلَى هَذِهِ الْقِصَّةِ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: الْمَرْأَةُ تُقَادُ مِنَ الرَّجُلِ عَيْنًا بِعَيْنٍ، وَأُذُنًا بِأُذُنٍ، وَكُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْجِرَاحِ عَلَى ذَلِكَ، وَإِنْ قَتَلَهَا قُتِلَ بِهَا " وَرُوِّينَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمٰن بن ابی الزناد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ایسے ایسے فقہاء کرام سے ملاقات کی ہے کہ جن کی بات حرفِ آخر سمجھی جاتی تھی، ان میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ، قاسم بن محمد رحمہ اللہ، ابوبکر بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ، خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ، سلیمان بن یسار رحمہ اللہ اور ان کے علاوہ بڑے جلیل القدر اہل علم ہیں۔ بعض اوقات ان سب میں اختلاف ہو جاتا تو ہم جس طرف اکثریت ہوتی ان کی بات کو لے لیتے۔ ان سے میں نے یہ بات یاد کی کہ یہ کہتے تھے کہ مرد کو قصاصاً عورت کے بدلے قتل کیا جائے گا اور اگر کوئی زخم دیتا ہے تو مرد کو وہ زخم دیا جائے گا۔
سفیان ثوری رحمہ اللہ، مغیرہ سے اور وہ ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ قتلِ عمد میں مرد و عورت کے درمیان بھی قصاص ہے۔
جابر عن شعبی رحمہ اللہ بھی اسی طرح منقول ہے۔
سفیان ثوری رحمہ اللہ، مغیرہ سے اور وہ ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ قتلِ عمد میں مرد و عورت کے درمیان بھی قصاص ہے۔
جابر عن شعبی رحمہ اللہ بھی اسی طرح منقول ہے۔
حدیث نمبر: 15972
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، مِثْلَهُ: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُنَّ وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ، بِخِلَافِهِ فِيمَا دُونَ النَّفْسِ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔