السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: الرجل يقتل ابنه باب: آدمی کا اپنے بیٹے کو قتل کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ، يُقَالُ لَهُ: قَتَادَةُ، حَذَفَ ابْنَهُ بِسَيْفٍ فَأَصَابَ سَاقَهُ فَنَزَّى فِي جُرْحِهِ فَمَاتَ. فَقَدِمَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ، عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَعْدِدْ لِي عَلَى قُدَيْدٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ بَعِيرٍ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَيْكَ. فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ أَخَذَ مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً، وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً، وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: هَأَنَذَا، قَالَ: خُذْهَا، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ " زَادَ أَبُو عَبْدِ اللهِ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ حَفِظْتُ عَنْ عَدَدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لَقِيتُهُمْ: أَنْ لَا يُقْتَلَ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ، وَبِذَلِكَ أَقُولُ. قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا الْحَدِيثُ مُنْقَطِعٌ فأَكَّدَّهُ الشَّافِعِيُّ بِأَنَّ عَدَدًا مِنْ أَهْلِ الْعِلَمِ يَقُولُ بِهِ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا.عمرو بن شعیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بنو مدلج کے ایک قتادہ نامی شخص نے اپنے بیٹے کو تلوار پھینک کر ماری، وہ لگ گئی، وہ زخمی ہوا اور مر گیا۔ سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ قصہ بتایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ 120 اونٹ تیار کرو اور میرا انتظار کرو، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے، ان اونٹوں میں 30 حقے، 30 جذعے اور 40 خلفہ اونٹ لیے اور فرمایا: مقتول کا بھائی کہاں ہے؟ تو اس نے کہا: میں یہاں ہوں۔ فرمایا: یہ لے لو۔ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قاتل کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سارے اہل علم سے سنا ہے کہ والد کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور میں بھی یہی کہتا ہوں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ روایت منقطع ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے جو بہت سارے علماء سے تاکید کی ہے وہ موصولاً ہے۔