کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس سلسلے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی روایات۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ ⦗٥٩⦘ مَكْحُولٍ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَعَا نَبَطِيًّا يُمْسِكُ لَهُ دَابَّتَهُ عِنْدَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَبَى فَضَرَبَهُ فَشَجَّهُ، فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ: " مَا دَعَاكَ إِلَى مَا صَنَعْتَ بِهَذَا؟ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَرْتُهُ أَنْ يُمْسِكَ دَابَّتِي فَأَبَى، وَأَنَا رَجُلٌ فِيَّ حَدَّةٌ فَضَرَبْتُهُ، فَقَالَ: اجْلِسْ لِلْقَصَاصِ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: أَتُقِيدُ عَبْدَكَ مِنْ أَخِيكَ؟ فَتَرَكَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْقَوَدَ وَقَضَى عَلَيْهِ بِالدِّيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
مکحول کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ایک نبطی کو بلایا کہ وہ آپ کے جانور کو بیت المقدس کے پاس روک لے۔ اس نے انکار کیا تو آپ نے اسے مارا اور اس کا سر پھاڑ دیا۔ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ نے پوچھا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو عبادہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں نے اسے کہا کہ میرے جانور کو پکڑ لے، اس نے انکار کیا۔ میں غصے والا شخص ہوں، غصہ آیا، میں نے اسے مار دیا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: بیٹھو، قصاص دو۔ تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کیا اپنے غلام کو اپنے بھائی سے قصاص لے کر دو گے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے قصاص کو چھوڑ دیا اور دیت کے ساتھ فیصلہ فرمایا۔ مکحول کی عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَدْ جَرَحَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَأَرَادَ أَنْ يُقِيدَهُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: " مَا يَنْبَغِي هَذَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِذًا نُضَعِّفُ عَلَيْهِ الْعَقْلَ "، فَأَضْعَفَهُ. وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يُحَدِّثُ النَّاسَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ قُتِلَ بِالشَّامِ عَمْدًا، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذْ ذَاكَ بِالشَّامِ، فَلَمَّا بَلَغَهُ ذَلِكَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَدْ وَقَعْتُمْ بِأَهْلِ الذِّمَّةِ لَأَقْتُلَنَّهُ بِهِ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ. فَصَلَّى ثُمَّ دَعَا أَبَا عُبَيْدَةَ فَقَالَ: لِمَ زَعَمْتَ لَا أَقْتُلُهُ بِهِ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَرَأَيْتَ لَوْ قَتَلَ عَبْدًا لَهُ أَكُنْتَ قَاتِلَهُ بِهِ؟ فَصَمَتَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَضَى عَلَيْهِ بِأَلْفِ دِينَارٍ مُغَلِّظًا عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص لایا گیا، جس نے ایک ذمی کو زخمی کر دیا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے قصاص لینا چاہا تو مسلمان کہنے لگے: ایسا نہیں ہو سکتا تو عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: پھر ہم دیت بڑھا کر لیتے ہیں تو دیت بڑھا کر دے دی گئی اور اسماعیل بن ابی حکیم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے سنا، آپ بہت سے لوگوں سے روایت کرتے تھے کہ ایک آدمی اہل ذمہ میں سے شام میں قتل ہو گیا، عمر رضی اللہ عنہ بھی اس وقت شام میں تھے۔ آپ کو یہ بات پہنچی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب اسے بھی بدلے میں قتل کیا جائے گا تو ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ایسا نہیں ہو سکتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور پھر ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور پوچھا کہ میں اس کو کیوں قتل نہ کروں؟ تو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اگر مقتول غلام ہوتا تو کیا آپ پھر بھی اسے قتل کرتے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے اور ہزار دینار دے کر فیصلہ کر دیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، أنبأ أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْحِيرَةِ فَكَتَبَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُدْفَعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَقْتُولِ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا وَإِنْ شَاءُوا عَفَوْا. فَدُفِعَ الرَّجُلُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ، إِلَى رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: حُنَيْنٌ مِنْ أَهْلِ الْحِيرَةِ فَقَتَلَهُ. فَكَتَبَ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ: إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَمْ يُقْتَلْ فَلَا تَقْتُلُوهُ. فَرَأَوْا أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يُرَضِّيَهُمْ مِنَ الدِّيَةِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " الَّذِي رَجَعَ إِلَيْهِ أَوْلَى بِهِ، وَلَعَلَّهُ أَرَادَ أَنْ يُخِيفَهُ بِالْقَتْلِ وَلَا يَقْتُلُهُ ". قَالَ الَّذِي تَكَلَّمَ مَعَهُ: فَقَدْ رَوَيْتُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ ⦗٦٠⦘ فِي مُسْلِمٍ قَتَلَ نَصْرَانِيًّا: إِنْ كَانَ الْقَاتِلُ قَتَّالًا فَاقْتُلُوهُ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ قَتَّالٍ فَذَرُوهُ وَلَا تَقْتُلُوهُ؟ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ رُوِّينَاهُ، فَاتَّبِعْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَمَا قَالَ، فَأَنْتَ لَا تَتَّبِعُهُ فِيمَا قَالَ. قَالَ: فَيَثْبُتُ عِنْدَكُمْ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ هَذَا شَيْءٌ؟ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قُلْنَا: وَلَا حَرْفٌ، وَهَذِهِ أَحَادِيثُ مُنْقَطِعَاتٌ، أَوْ ضِعَافٌ، أَوْ تَجْمَعُ الِانْقِطَاعَ وَالضَّعْفَ جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ
حماد بن ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بکر بن وائل قبیلہ کے ایک شخص نے اہل حیرہ کے ایک شخص کو قتل کر دیا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا کہ قاتل کو مقتول کے ورثاء کے حوالے کر دیا جائے، چاہے وہ اسے قتل کر دیں یا معاف کر دیں، تو اس شخص کو ان کے ورثاء میں سے حنین نامی شخص کے حوالے کر دیا گیا۔ اس نے اسے قتل کر دیا، تو بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو لکھا کہ اگر اس کو ابھی قتل نہ کیا ہو تو اسے قتل نہ کرنا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ارادہ یہ تھا کہ ان کو دیت پر راضی کر لیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کی طرف جو لوٹایا تھا یہ زیادہ اولیٰ ہے اور شاید ان کو قتل سے ڈرانا مقصود ہو، قتل مقصود نہ ہو اور اس نے کہا جس نے اس کے ساتھ کلام کی کہ تمہیں عمرو بن دینار سے بیان کیا گیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان جس نے عیسائی کو قتل کیا تھا اس کے بارے میں لکھا تھا کہ اگر قاتل عادی مجرم ہے تو قتل کر دو، ورنہ چھوڑ دو، قتل نہ کرو۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں یہ روایت تو دی گئی ہے، لیکن جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کی اتباع کر، اس کی اتباع نہ کر کہ انہوں نے کیوں کہا۔ پھر وہ کہنے لگا کہ کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کوئی چیز اس بارے میں ثابت بھی ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرمانے لگے: ایک حرف بھی نہیں اور جو احادیث ہیں وہ یا تو منقطع ہیں یا ضعیف، یا منقطع اور ضعیف دونوں ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کی طرف جو لوٹایا تھا یہ زیادہ اولیٰ ہے اور شاید ان کو قتل سے ڈرانا مقصود ہو، قتل مقصود نہ ہو اور اس نے کہا جس نے اس کے ساتھ کلام کی کہ تمہیں عمرو بن دینار سے بیان کیا گیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان جس نے عیسائی کو قتل کیا تھا اس کے بارے میں لکھا تھا کہ اگر قاتل عادی مجرم ہے تو قتل کر دو، ورنہ چھوڑ دو، قتل نہ کرو۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں یہ روایت تو دی گئی ہے، لیکن جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کی اتباع کر، اس کی اتباع نہ کر کہ انہوں نے کیوں کہا۔ پھر وہ کہنے لگا کہ کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کوئی چیز اس بارے میں ثابت بھی ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرمانے لگے: ایک حرف بھی نہیں اور جو احادیث ہیں وہ یا تو منقطع ہیں یا ضعیف، یا منقطع اور ضعیف دونوں ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ شَيْخٍ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مُسْلِمٍ قَتَلَ مُعَاهِدًا فَكَتَبَ: إِنْ كَانَتْ طَيْرَةً فِي غَضِبٍ فَأَغْرِمْ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَإِنْ كَانَ لِصًّا عَادِيًا فَاقْتُلْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ اپنے استاد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان کے بارے میں فیصلہ فرمایا، جس نے ایک ذمی کو قتل کر دیا تھا، اگر اس سے یہ کام غصے میں ہو گیا ہے تو 4000 چار ہزار دینار دیت لے لو، اگر عادی مجرم ہے تو قتل کر دو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الْبَغْدَادِيُّ بِبَلْخٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، أَنَّ رَجُلًا مُسْلِمًا قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ بِالشَّامِ، فَرُفِعَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنْ كَانَ ذَاكَ مِنْهُ خُلُقًا فَقَدِّمْهُ وَاضْرِبْ عُنُقَهُ، وَإِنْ كَانَتْ هِيَ طَيْرَةً طَارَهَا فَأَغْرِمْهُ أَرْبَعَةَ آلَافٍ ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن ابزہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شام میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کر دیا تو سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس فیصلہ آگیا تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس خط لکھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا کہ اگر وہ عادی مجرم ہے تو اسے قتل کر دو ورنہ چار ہزار دیت لگا دو۔