حدیث نمبر: 15926
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ ⦗٥٩⦘ مَكْحُولٍ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَعَا نَبَطِيًّا يُمْسِكُ لَهُ دَابَّتَهُ عِنْدَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَبَى فَضَرَبَهُ فَشَجَّهُ، فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ: " مَا دَعَاكَ إِلَى مَا صَنَعْتَ بِهَذَا؟ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَرْتُهُ أَنْ يُمْسِكَ دَابَّتِي فَأَبَى، وَأَنَا رَجُلٌ فِيَّ حَدَّةٌ فَضَرَبْتُهُ، فَقَالَ: اجْلِسْ لِلْقَصَاصِ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: أَتُقِيدُ عَبْدَكَ مِنْ أَخِيكَ؟ فَتَرَكَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْقَوَدَ وَقَضَى عَلَيْهِ بِالدِّيَةِ.
حافظ ثناء اللہ

مکحول کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ایک نبطی کو بلایا کہ وہ آپ کے جانور کو بیت المقدس کے پاس روک لے۔ اس نے انکار کیا تو آپ نے اسے مارا اور اس کا سر پھاڑ دیا۔ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ نے پوچھا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو عبادہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں نے اسے کہا کہ میرے جانور کو پکڑ لے، اس نے انکار کیا۔ میں غصے والا شخص ہوں، غصہ آیا، میں نے اسے مار دیا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: بیٹھو، قصاص دو۔ تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کیا اپنے غلام کو اپنے بھائی سے قصاص لے کر دو گے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے قصاص کو چھوڑ دیا اور دیت کے ساتھ فیصلہ فرمایا۔ مکحول کی عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15926
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»