السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
الروايات فيه عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه باب: اس سلسلے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی روایات۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، أنبأ أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْحِيرَةِ فَكَتَبَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُدْفَعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَقْتُولِ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا وَإِنْ شَاءُوا عَفَوْا. فَدُفِعَ الرَّجُلُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ، إِلَى رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: حُنَيْنٌ مِنْ أَهْلِ الْحِيرَةِ فَقَتَلَهُ. فَكَتَبَ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ: إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَمْ يُقْتَلْ فَلَا تَقْتُلُوهُ. فَرَأَوْا أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يُرَضِّيَهُمْ مِنَ الدِّيَةِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " الَّذِي رَجَعَ إِلَيْهِ أَوْلَى بِهِ، وَلَعَلَّهُ أَرَادَ أَنْ يُخِيفَهُ بِالْقَتْلِ وَلَا يَقْتُلُهُ ". قَالَ الَّذِي تَكَلَّمَ مَعَهُ: فَقَدْ رَوَيْتُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ ⦗٦٠⦘ فِي مُسْلِمٍ قَتَلَ نَصْرَانِيًّا: إِنْ كَانَ الْقَاتِلُ قَتَّالًا فَاقْتُلُوهُ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ قَتَّالٍ فَذَرُوهُ وَلَا تَقْتُلُوهُ؟ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ رُوِّينَاهُ، فَاتَّبِعْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَمَا قَالَ، فَأَنْتَ لَا تَتَّبِعُهُ فِيمَا قَالَ. قَالَ: فَيَثْبُتُ عِنْدَكُمْ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ هَذَا شَيْءٌ؟ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قُلْنَا: وَلَا حَرْفٌ، وَهَذِهِ أَحَادِيثُ مُنْقَطِعَاتٌ، أَوْ ضِعَافٌ، أَوْ تَجْمَعُ الِانْقِطَاعَ وَالضَّعْفَ جَمِيعًا.حماد بن ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بکر بن وائل قبیلہ کے ایک شخص نے اہل حیرہ کے ایک شخص کو قتل کر دیا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا کہ قاتل کو مقتول کے ورثاء کے حوالے کر دیا جائے، چاہے وہ اسے قتل کر دیں یا معاف کر دیں، تو اس شخص کو ان کے ورثاء میں سے حنین نامی شخص کے حوالے کر دیا گیا۔ اس نے اسے قتل کر دیا، تو بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو لکھا کہ اگر اس کو ابھی قتل نہ کیا ہو تو اسے قتل نہ کرنا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ارادہ یہ تھا کہ ان کو دیت پر راضی کر لیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کی طرف جو لوٹایا تھا یہ زیادہ اولیٰ ہے اور شاید ان کو قتل سے ڈرانا مقصود ہو، قتل مقصود نہ ہو اور اس نے کہا جس نے اس کے ساتھ کلام کی کہ تمہیں عمرو بن دینار سے بیان کیا گیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان جس نے عیسائی کو قتل کیا تھا اس کے بارے میں لکھا تھا کہ اگر قاتل عادی مجرم ہے تو قتل کر دو، ورنہ چھوڑ دو، قتل نہ کرو۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں یہ روایت تو دی گئی ہے، لیکن جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کی اتباع کر، اس کی اتباع نہ کر کہ انہوں نے کیوں کہا۔ پھر وہ کہنے لگا کہ کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کوئی چیز اس بارے میں ثابت بھی ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرمانے لگے: ایک حرف بھی نہیں اور جو احادیث ہیں وہ یا تو منقطع ہیں یا ضعیف، یا منقطع اور ضعیف دونوں ہیں۔