❮
❯
حدیث نمبر: 15927
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَدْ جَرَحَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَأَرَادَ أَنْ يُقِيدَهُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: " مَا يَنْبَغِي هَذَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِذًا نُضَعِّفُ عَلَيْهِ الْعَقْلَ "، فَأَضْعَفَهُ. وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يُحَدِّثُ النَّاسَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ قُتِلَ بِالشَّامِ عَمْدًا، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذْ ذَاكَ بِالشَّامِ، فَلَمَّا بَلَغَهُ ذَلِكَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَدْ وَقَعْتُمْ بِأَهْلِ الذِّمَّةِ لَأَقْتُلَنَّهُ بِهِ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ. فَصَلَّى ثُمَّ دَعَا أَبَا عُبَيْدَةَ فَقَالَ: لِمَ زَعَمْتَ لَا أَقْتُلُهُ بِهِ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَرَأَيْتَ لَوْ قَتَلَ عَبْدًا لَهُ أَكُنْتَ قَاتِلَهُ بِهِ؟ فَصَمَتَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَضَى عَلَيْهِ بِأَلْفِ دِينَارٍ مُغَلِّظًا عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ

یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص لایا گیا، جس نے ایک ذمی کو زخمی کر دیا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے قصاص لینا چاہا تو مسلمان کہنے لگے: ایسا نہیں ہو سکتا تو عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: پھر ہم اس پر دیت دگنی کرتے ہیں، تو دیت دگنی کر دی گئی اور اسماعیل بن ابی حکیم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے سنا، آپ لوگوں کو بیان کر رہے تھے کہ ایک آدمی اہل ذمہ میں سے شام میں جان بوجھ کر قتل کر دیا گیا، عمر رضی اللہ عنہ بھی اس وقت شام میں تھے۔ آپ کو یہ بات پہنچی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب اسے بھی بدلے میں قتل کیا جائے گا تو ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ایسا نہیں ہو سکتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور پھر ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور پوچھا کہ میں اس کو کیوں قتل نہ کروں؟ تو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اگر مقتول غلام ہوتا تو کیا آپ پھر بھی اسے قتل کرتے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے اور اس پر سختی کرتے ہوئے ہزار دینار کا فیصلہ کر دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15927
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ مرسل عن عمر»