السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: لا عدة على التي لم يدخل بها زوجها باب: غیر مدخول بہا عورت (جس سے شوہر نے خلوتِ صحیحہ نہ کی ہو) پر کوئی عدت واجب نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15443
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " لَيْسَ إِلَّا نِصْفَ الْمَهْرِ وَلَا عِدَّةَ عَلَيْهَا " قَالَ الشَّافِعِيُّ وَشُرَيْحٌ يَقُولُ ذَلِكَ فَهُوَ ظَاهِرُ الْكِتَابِ.حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اس کے لیے صرف آدھا مہر ہے اور اس پر عدت نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شریح نے کہا: یہ ظاہرِ کتاب کا حکم ہے۔