حدیث نمبر: 15337
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُؤَمَّلِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عِيسَى، نا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسَيَّبٍ الشَّعْرَانِيُّ، نا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: لَمَّا ادَّعَى مُعَاوِيَةُ زِيَادًا لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ سَعْدًا يَقُولُ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الْإِسْلَامِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " قَالَ أَبُو بَكْرَةَ: وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ هُشَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ

ابو خالد، ابو عثمان سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد کا دعویٰ کر دیا تو میں سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ملا، میں نے کہا: تم نے یہ کیا کیا؟ میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے سنا تھا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کو اپنے کانوں سے سنا اور میرے دل نے اس کو یاد رکھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”جس نے اسلام میں کسی کا دعویٰ کر دیا اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15337
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»