السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: من ادعي إلى غير أبيه باب: اس شخص کا بیان جس کی نسبت اس کے (حقیقی) باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کی جائے۔
حدیث نمبر: 15336
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَمَامِيِّ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أنا ⦗٦٦٣⦘ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْخُطَبِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، نا مُسَدَّدٌ، نا خَالِدٌ، نا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ ادُّعِيَ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بَكْرَةَ فَقَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ مُسَدَّدٍ.حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے باپ کے علاوہ کا دعویٰ کیا اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا: میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا۔