کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کا بیان جس کے نکاح میں کوئی لونڈی ہو، پس وہ اسے تین طلاقیں دے دے اور پھر اسے خرید لے۔
حدیث نمبر: 15203
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزَّاهِرِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ قَالَ: سَأَلَ ابْنُ الْكَوَّاءِ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْمَمْلُوكَةِ تَكُونُ تَحْتَ الرَّجُلِ فَيُطَلِّقُهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ يَشْتَرِيهَا، فَقَالَ: " لَا تَحِلُّ لَهُ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن الکواء نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ لونڈی جو کسی شخص کے نکاح میں تھی، اس نے دو طلاقیں دے دیں، پھر اس لونڈی کو خرید لیا، فرماتے ہیں: اس شخص کے لیے یہ لونڈی حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرجعة / حدیث: 15203
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15204
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ الْأَمَةَ ثَلَاثًا ثُمَّ يَشْتَرِيهَا " أَنَّهَا لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " قَالَ: وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ: قَالَ ذَلِكَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعبدالرحمن، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ کوئی شخص لونڈی کو تین طلاقیں دینے کے بعد خرید لیتا ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں جب تک یہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرجعة / حدیث: 15204
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15205
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، نا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، نا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، نا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مَنْ ⦗٦١٧⦘ تَزَوَّجَ أَمَةً ثُمَّ بَانَتْ مِنْهُ بِالْبَتَّةِ ثُمَّ اسْتَسَرَّهَا سَيِّدُهَا ثُمَّ ابْتَاعَهَا زَوْجُهَا بَعْدَ ذَلِكَ " فَلَا تَحِلُّ لَهُ بِاسْتِسْرَارِ سَيِّدِهَا إِيَّاهَا، وَلَا تَحِلُّ لَهُ بِمِلْكِ يَمِينِهِ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی زناد رحمہ اللہ اپنے والد سے، جو مدینہ کے فقہاء میں سے ہیں، نقل فرماتے ہیں کہ جس شخص نے لونڈی سے شادی کی، پھر وہ تین طلاقوں کی وجہ سے جدا ہوگئی، اس کے مالک نے اس کو چھپا لیا، پھر اس کے خاوند نے اس لونڈی کو خرید لیا، تو مالک کے چھپانے کی وجہ سے یہ لونڈی خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی اور نہ ہی اس کی ملکیت میں آنے کی بنا پر، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرجعة / حدیث: 15205
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15206
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاتِي، نا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيْدَةَ السَّلْمَانِيِّ قَالَ: " لَا تَحِلُّ لَهُ إِلَّا مِنَ الْبَابِ الَّذِي حُرِّمَتْ عَلَيْهِ " فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ مَمْلُوكَةً فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ اشْتَرَاهَا وَقَالَ: إِذَا كَانَ تَحْتَ الرَّجُلِ مَمْلُوكَةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ وَقَعَ عَلَيْهَا سَيِّدُهَا فَقَالَ: " لَا يُحِلُّهَا السَّيِّدُ لِزَوْجِهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ زَوْجًا ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ، عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں ہے مگر اسی طریقے سے جیسے یہ اس پر حرام ہوئی ہے کہ ایک شخص نے لونڈی کو دو طلاقیں دے دیں۔ پھر اس کو خرید لیا۔ فرماتے ہیں: جب لونڈی کسی شخص کے نکاح میں تھی، اس نے دو طلاقیں دے دیں، پھر لونڈی کا مالک اس سے ہمبستری کرتا رہا تو مالک نے خاوند کے لیے حلال نہیں کر دی۔ اگر اس کا خاوند ہوتا تو پہلے کے لیے حلال کرتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرجعة / حدیث: 15206
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»