کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: رجوع کرنے پر گواہ بنانے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ هِيَ زَوْجَةُ الْأَوَّلِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَنْكَحَ الْوَلِيَّانِ فَالْأَوَّلُ أَحَقُّ "، وَقَدْ مَضَى هَذَا الْحَدِيثُ بِأَسَانِيدِهِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ پہلے (شوہر) کی بیوی ہے، (کیونکہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب دو ولی (ایک عورت کا الگ الگ) نکاح کر دیں تو پہلا (نکاح) زیادہ حق دار ہے۔““
اور یہ حدیث اپنی اسانید کے ساتھ گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرجعة / حدیث: 15187
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يُشْهِدُ عَلَى رَجْعَتِهَا وَلَمْ تَعْلَمْ بِذَلِكَ قَالَ: " هِيَ امْرَأَةُ الْأَوَّلِ دَخَلَ بِهَا الْآخَرُ أَمْ لَمْ يَدْخُلْ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر اس نے رجوع پر گواہ بنا لیے لیکن عورت کو علم نہ تھا، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ پہلے کی بیوی ہے، دوسرے نے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
(6) باب «مَا جَاءَ فِي الْإِشْهَادِ عَلَى الرَّجْعَةِ» ”رجوع پر گواہ بنانے کا بیان“
«قَالَ اللَّهُ تَعَالَى» ﴿فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ [سورة الطلاق: 2]
اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ [سورة الطلاق: 2] ”ان کو اچھائی سے روک لو یا بھلائی سے جدا کر دو اور دو عدل والے گواہ بنا لو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرجعة / حدیث: 15187
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ امْرَأَتَهُ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ " فَكَانَ لَا يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِلَّا بِإِذْنٍ، فَلَمَّا رَاجَعَهَا أَشْهَدَ عَلَى رَجْعَتِهَا وَدَخَلَ عَلَيْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ، نافع سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی صفیہ بنت ابی عبید کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں تو ان کے پاس اجازت لے کر جاتے تھے اور جب رجوع کر کے اس پر گواہ بنا لیے تو پھر ان کے پاس بغیر اجازت کے چلے جاتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرجعة / حدیث: 15188
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، نا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَيُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَأَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُشْهِدْ وَرَاجَعَ وَلَمْ يُشْهِدْ قَالَ عِمْرَانُ: " إِنْ طَلَّقَ فِي غَيْرِ عِدَّةٍ وَرَاجَعَ فِي غَيْرِ سُنَّةٍ فَلْيُشْهِدِ الْآنَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے کر گواہ نہیں بنایا تھا اور رجوع کیا تب بھی گواہ نہیں بنایا، تو عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس نے بغیر عدت کے طلاق دی اور سنت طریقے کے علاوہ رجوع کیا، وہ اب گواہ بنا لے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرجعة / حدیث: 15189
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»