السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في الإشهاد على الرجعة باب: رجوع کرنے پر گواہ بنانے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ هِيَ زَوْجَةُ الْأَوَّلِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَنْكَحَ الْوَلِيَّانِ فَالْأَوَّلُ أَحَقُّ "، وَقَدْ مَضَى هَذَا الْحَدِيثُ بِأَسَانِيدِهِ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ پہلے (شوہر) کی بیوی ہے، (کیونکہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب دو ولی (ایک عورت کا الگ الگ) نکاح کر دیں تو پہلا (نکاح) زیادہ حق دار ہے۔““
اور یہ حدیث اپنی اسانید کے ساتھ گزر چکی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يُشْهِدُ عَلَى رَجْعَتِهَا وَلَمْ تَعْلَمْ بِذَلِكَ قَالَ: " هِيَ امْرَأَةُ الْأَوَّلِ دَخَلَ بِهَا الْآخَرُ أَمْ لَمْ يَدْخُلْ ".سعید بن جبیر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر اس نے رجوع پر گواہ بنا لیے لیکن عورت کو علم نہ تھا، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ پہلے کی بیوی ہے، دوسرے نے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
(6) باب «مَا جَاءَ فِي الْإِشْهَادِ عَلَى الرَّجْعَةِ» ”رجوع پر گواہ بنانے کا بیان“
«قَالَ اللَّهُ تَعَالَى» ﴿فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ [سورة الطلاق: 2]
اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ [سورة الطلاق: 2] ”ان کو اچھائی سے روک لو یا بھلائی سے جدا کر دو اور دو عدل والے گواہ بنا لو۔“