السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في الإشهاد على الرجعة باب: رجوع کرنے پر گواہ بنانے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15188
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ امْرَأَتَهُ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ " فَكَانَ لَا يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِلَّا بِإِذْنٍ، فَلَمَّا رَاجَعَهَا أَشْهَدَ عَلَى رَجْعَتِهَا وَدَخَلَ عَلَيْهَا ".حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ، نافع سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی صفیہ بنت ابی عبید کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں تو ان کے پاس اجازت لے کر جاتے تھے اور جب رجوع کر کے اس پر گواہ بنا لیے تو پھر ان کے پاس بغیر اجازت کے چلے جاتے۔