کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کھاتے وقت کھجور کو کھول کر چیک کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، نا سَلَمُ بْنُ قُتَيْبَةَ أَبُو قُتَيْبَةَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ عَتِيقٍ فَجَعَلَ يُفَتِّشُهُ يُخْرِجُ السُّوسَ مِنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس پرانی کھجوریں لائی گئیں تو آپ ﷺ ان میں سے تلاش کر کے کیڑے نکال رہے تھے۔
قَالَ: وَنا أَبُو دَاوُدَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالتَّمْرِ فِيهِ دُودٌ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّهْيِ عَنْ شَقِّ التَّمْرَةِ عَمَّا فِي جَوْفِهَا فَإِنْ صَحَّ فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ إِذَا كَانَ التَّمْرُ جَدِيدًا، وَالَّذِي رَوَيْنَاهُ وَرَدَ فِي التَّمْرِ إِذَا كَانَ عَتِيقًا.
حافظ ثناء اللہ
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو کھجوریں دی گئیں جن میں کیڑے تھے۔
(ب) ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے کھجور کو درمیان سے پھاڑ کر اس کے اندر کی چیز دیکھنے کی ممانعت نقل کرتے ہیں۔ اگر یہ صحیح ہو تو اس سے مراد، واللہ اعلم، یہ ہے کہ جب کھجور نئی ہو، اور جو حدیث ہم نے روایت کی ہے وہ پرانی کھجور کے بارے میں ہے۔
(ب) ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے کھجور کو درمیان سے پھاڑ کر اس کے اندر کی چیز دیکھنے کی ممانعت نقل کرتے ہیں۔ اگر یہ صحیح ہو تو اس سے مراد، واللہ اعلم، یہ ہے کہ جب کھجور نئی ہو، اور جو حدیث ہم نے روایت کی ہے وہ پرانی کھجور کے بارے میں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو أُمَيَّةَ، نا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَضَعَ النَّوَى مَعَ التَّمْرِ عَلَى الطَّبَقِ "، وَهَذَا مَوْقُوفٌ عَلَى أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کھجور کی گٹھلی کو پلیٹ میں کھجور کے ساتھ رکھنے کو ناپسند کرتے تھے۔