السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما جاء في كراهية القران بين التمرتين حتى يستأمر أصحابه باب: اپنے ساتھیوں سے اجازت لیے بغیر کھجوریں ملا کر (دو دو ایک ساتھ) کھانے کی کراہت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14633
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ ⦗٤٥٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، نا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا شُعْبَةُ، نا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ قَالَ: أَصَابَنَا عَامُ سَنَةٍ مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَرُزِقْنَا تَمْرًا فَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا وَنَحْنُ نَأْكُلُهُ فَيَقُولُ: " لَا تُقَارِنُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ " ثُمَّ قَالَ: إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ "، قَالَ شُعْبَةُ: الْإِذْنُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
جبلہ بن سحیم فرماتے ہیں کہ ہمیں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کھجوریں ملیں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرے تو فرمانے لگے: ”دو دو ملا کر نہ کھایا کرو؛ کیونکہ اس طرح رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے، الا یہ کہ ساتھی اجازت دے دیں۔“ شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: «الْإِذْنُ» ”اجازت“ یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔