السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما جاء في تفتيش التمر عند الأكل باب: کھاتے وقت کھجور کو کھول کر چیک کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14635
قَالَ: وَنا أَبُو دَاوُدَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالتَّمْرِ فِيهِ دُودٌ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّهْيِ عَنْ شَقِّ التَّمْرَةِ عَمَّا فِي جَوْفِهَا فَإِنْ صَحَّ فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ إِذَا كَانَ التَّمْرُ جَدِيدًا، وَالَّذِي رَوَيْنَاهُ وَرَدَ فِي التَّمْرِ إِذَا كَانَ عَتِيقًا.حافظ ثناء اللہ
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو کھجوریں دی گئیں جن میں کیڑے تھے۔
(ب) ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے کھجور کو درمیان سے پھاڑ کر اس کے اندر کی چیز دیکھنے کی ممانعت نقل کرتے ہیں۔ اگر یہ صحیح ہو تو اس سے مراد، واللہ اعلم، یہ ہے کہ جب کھجور نئی ہو، اور جو حدیث ہم نے روایت کی ہے وہ پرانی کھجور کے بارے میں ہے۔