کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بیان میں کہ جو شخص اس کے ساتھ کھانے کے لیے نہیں بیٹھا اسے اپنے سامنے پیش کیے گئے کھانے میں سے کچھ نہ پکڑائے کیونکہ اسے تو کھانے کے لیے بلایا گیا ہے نہ کہ دینے کے لیے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَاسَرْجِسِيُّ، أنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ نا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: صَنَعَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ طَعَامًا فَدَعَا نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ سَائِلٌ فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الطَّعَامِ فَنَاوَلَهُ فَقَالَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " دَعْ إِنَّمَا دُعِيتَ لِتَأْكُلَ "، فَاسْتَحَى الرَّجُلُ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ سَلْمَانُ: لَعَلَّهُ شَقَّ عَلَيْكَ مَا قُلْتُ لَكَ، قَالَ: إِي وَاللهِ لَقَدْ أَزْرَيْتَ بِي قَالَ: " وَمَا مَكَانُ حَاجَتِكَ أَنْ يَكُونَ الْأَجْرُ لِي وَالْوِزْرُ عَلَيْكَ "، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو البختری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کھانا پکایا اور صحابہ کے ایک گروہ کو دعوت دی۔ ایک سائل آیا تو ایک شخص نے کھانا اس کو دینا چاہا تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کھانا رکھ دیں، آپ کو کھانا کھانے کی دعوت دی گئی ہے۔“ وہ آدمی شرمندہ ہوا۔ جب کھانا کھا کر فارغ ہوا تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”شاید کہ میری بات آپ پر گراں گزری ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”آپ کو کیا ضرورت ہے کہ میرے لیے اجر ہو اور آپ پر بوجھ ہو۔“